بنوں میں طالبان مخالف کمیٹی کا سربراہ ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں صوبے خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں ریموٹ کنٹرول بم کے ایک حملے میں طالبان مخالف امن کمیٹی کے سربراہ ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس حملے میں ان کا بیٹا زخمی ہوگیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ حملہ اتوار کی صبح بنوں شہر سے دور قبائلی علاقے کی سرحد کے قریب واقع ٹوچی نالہ کے مقام پر ہوا۔
بنوں پولیس کے ایک اہلکار سلطان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ نیم خود مختار قبائلی علاقے بکاخیل سے تعلق رکھنے والے ملک سعد علی اپنے بیٹے کے ساتھ بنوں شہر جا رہے تھے کہ ان کی گاڑی کو سڑک کے کنارے نصب ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے میں قبائلی سعد ملک ہلاک جبکہ ان کا بیٹا زخمی ہوا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔
مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ مقتول قبائلی ملک بکاخیل امن کمیٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ قبائلی رہنما پر اس سے پہلے بھی ایک قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔
قبائلی علاقوں اور خیبر پختونِخوا میں حکومت حامی قبائلی سرداروں اور طالبان مخالف امن کمیٹیوں کے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اس سے چند ہفتے قبل باجوڑ ایجنسی میں یکے بعد دیگرے قبائلی مشران کو ریموٹ کنٹرول بم حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مرنے والوں میں قبائلی مشران اور ان کے رشتہ دار شامل تھے۔
اس کے علاوہ خیبر پختونخوا کے شہر سوات میں بھی گزشتہ چند مہینوں سے سیاسی رہنماؤں اور امن کمیٹیوں کے اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ان تمام واقعات کی ذمہ داری کالعدم تنظیمیں وقتاً فوقتاً قبول کرتی رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے ملک بھر میں فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں عمومی سکیورٹی کافی حد تک بہتر ہوگئی تھی۔ تاہم پنجاب میں وزیر داخلہ شجاع خانزادہ اور پشاور میں پاک فضائیہ کے کیمپ پر بڑے حملوں سے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ شدت پسندوں کے حملہ کرنے کی صلاحیت بدستور موجود ہے اور وہ اپنے ہدف تک بھی آسانی سے پہنچ رہے ہیں۔







