قبائلی علاقوں میں امن لشکر کے رضاکار پھر نشانے پر

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں دو روز میں امن لشکر کے دو سابقہ رضاکاروں سمیت تین افراد ہلاک اور ایک بچے سمیت دو افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ پشاور میں پولیس پر حملے میں ایک اہلکار سمیت دو حملہ آور ہلاک اور تین اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔
مہمند ایجنسی کی تحصیل پنڈیالی میں داویزئی کے مقام پر سڑک کنارے نصب دیسی ساختہ بم کا دھماکہ ہوا ۔ پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب امن کمیٹی کے سابق دو رضا کار وہاں سے موٹر سائیکل پر گزر رہے تھے۔اس دھماکے میں دونوں رضاکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
مہمند ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ نے امن کمیٹیاں یہ کہہ کر ختم کرنے کا اعلان کیا تھا کہ اب علاقے میں امن قائم ہو چکا ہے ۔
تحصیل پنڈیالی باجوڑ ایجنسی کے قریب واقع ہے ۔
اسی طرح رات گئے پنڈیالی تحصیل کے اسی علاقے داویزئی میں نامعلوم افراد نے زرغون شاہ نامی شخص کے مکان پر دستی بم سے حملہ کیا ہے ۔ اس حملے میں زرغون شاہ کی اہلیہ ہلاک ہو گئی ہیں جبکہ زرغون شاہ اور ان کا بیٹا اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔
اس حملے کی وجوہات اب تک معلوم نہیں ہو سکیں اور نہ ہی کسی نے ان حملوں کی ذمہ داری تک قبول کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
دوسری جانب جمعے کی شب پشاور کے پشتخرہ کے علاقے میں نامعلوم افراد نے پولیس کی ایک موبائل گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس میں ایک تھانیدار سمیت چار اہلکار زخمی ہوگئے تھے جس پر پولیس نے جوابی کارروائی کی تھی اور دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا تھا۔
سنیچر کی صبح ایک زخمی پولیس اہلکار اجمل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پشتخرہ تھانے کے پولیس اہلکار نے بتایا کہ ایک حملہ آور کی شناخت سیف اللہ کے نام سے ہوئی ہے اور وہ یہاں پشاور کے مضافاتی علاقے پاوکہ کا رہائشی تھا۔
صرف یہی نہیں کل رات پشاور کے ادرون شہر رشید گڑھی سے ایک شخص کا پھندا لگی ہوئی لاش ملی ہے ۔ پولیس کے مطابق رحمان گل نامی شخص کو پھندا لگا کر لاش رشید گڑھی چوک میں پھینک دی گئی تھی۔
رحمان گل کا تعلق مہمند ایجنسی سے بتایا گیا ہے اور ان کے ورثا کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے ۔
اس کے علاوہ کل پشاور کے گنجان آباد علاقے جھنگی محلے میں نامعلوم افراد نے ایک شخص قیصر رضا کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ مقتول کا تعلق اہل تشیع سے بتایا گیا ہے۔







