’آپریشن ضرب عضب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے‘

صدر ممنون حسین 11 برس میں پہلے صدر ہیں جنھوں نے قبائلی علاقے کا دورہ کیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنصدر ممنون حسین 11 برس میں پہلے صدر ہیں جنھوں نے قبائلی علاقے کا دورہ کیا
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور قبائلی علاقوں کا تقریباً تمام علاقہ شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے۔

صدر ممنون حسین نے جمعرات کو لنڈی کوتل میں پشاور کو افغانستان سے ملانے والی شاہراہ طورخم کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں اب قبائلی رہنماؤں اور عوام نے اپنے علاقوں کی نگرانی کے لیے کمیٹیاں بنا رہے ہیں۔

سڑک کے افتتاح کے موقعے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے اور ہر قسم کی آمد و رفت کو بند کر دیا گیا تھا۔

صدر نے قبائلی عمائدین سے خطاب میں کہا کہ شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا گیا اور اب پاکستان فوج یہ آپریشن مکمل کرنے کے قریب ہے۔

انھوں نے کہا کہ خیبر ایجنسی میں حالیہ آپریشن کے بعد تقریباً 66 ہزار خاندان واپس اپنے علاقوں کو چلے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب قبائلی علاقے میں قبائلی عوام ’سرشتے‘ قائم کر رہے ہیں اور حکومت ان کی ہر طرح سے مدد کرے گی۔

خیال رہے کہ ’سرشتے‘ خیبر ایجنیس میں مقامی افراد پر مشتمل ایسی کمیٹی ہوتی ہے جو امن و امان کی صورتحال سمیت روز مرہ کے معاملات کو دیکھتے ہیں۔

صدر کے اس دورے کے بارے میں مقامی صحافی ابراہیم شنواری نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا لیکن لوگووں کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔ انھوں نے سرشتوں کے بارے میں بتایا کہ ماضی میں سرشتے حکومت یا انتظامیہ کے زیر اثر نہیں ہوتے تھے اب یہ مکمل طور پر حکومت اور انتظامیہ کے زیرِاثر ہیں اس کے علاوہ ایک طرف حکومت نے مقامی امن کمیٹی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور دوسری جانب سرشتے قائم کیے جا رہے ہیں تو اس سے حکومت کی پالیسیوں میں تضاد نظرآتا ہے۔

صدر ممنون حسین نے کہا علاقے میں کشیدہ حالات کی وجہ سے بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے اور اب ضروری ہے کہ سول انتظامیہ علاقے کا کنٹرول سنبھالے۔ اس مقصد کے لیے لیویز میں نئی آسامیاں منظور کی جا رہی ہیں اور انہیں ضروری سازوسامان بھی مہیا کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بازار ذخہ خیل اور باڑہ کی ترقی کا منصوبہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کر دیا گیا ہے۔ ملاگوری ماربل انڈسٹریل زون کی بہتری کے لیے بھی کام جاری ہے۔

مقامی قبائلی رہنما اور سابق وفاقی وزیر مملکت ملک وارث خان نے کہا کہ صدر نے ان کے علاقے کے لیے اہم اعلانات کیے ہیں جن میں تعلیم اور صحت جیسے مسائل شامل ہیں جبکہ سڑکوں کی تعمیر کے اعلانات بھی کیے ہیں۔ ملک وارث خان کے مطابق علاقے حالات مکمل طور پر تو بہتر نہیں ہوئے لیکن پہلے سے اب بہت اچھے ہیں۔

ادھر پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان کے علاقے شوال کا دورہ کیا ہے جہاں چند روز پہلے سکیورٹی فورسز نے زمینی کارروائی شروع کی ہے۔

جنرل راحیل شریف نے اس دورے کے دوران کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور ان دہشت گردوں کے معاونیں کو سامنے لائیں گے۔