قبائلی علاقوں سے ’عالمی جہادیوں کا خاتمہ‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال شروع کیے جانے والے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تقریباً تمام قبائلی علاقوں سے ’عالمی جہادیوں‘ بالخصوص عرب اور وسطی ایشائی ممالک سے تعلق رکھنے والے اکثریتی شدت پسندوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے یا انہیں پاکستان کی سرزمین سے بے دخل ہونے پر مجبور کیا گیا ہے۔
اعلیٰ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے ویسے تو کئی مقاصد تھے لیکن ایک اہم ہدف یہ بھی تھا کہ پاکستانی کی سرزمین سے غیر ملکی جنگجوؤں کا مکمل طورپر خاتمہ کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق آپریشن سے پہلے ہی غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا اور انہیں دو ٹوک الفاظ میں آخری پیغام دیا گیا تھا کہ وہ یا تو پاکستانی علاقوں سے نکل جائیں یا پھر تیار ہوجائیں۔
گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان نے بھی شمالی وزیرستان میں کارروائیاں شروع ہوجانے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں بی بی سی کو کہا تھا کہ ضرب عضب کا بنیادی مقصد نہ صرف ایجنسی کو عسکری تنظیموں سے صاف کرنا ہے بلکہ پاکستان سے عالمی جہادیوں کا خاتمہ کرنا بھی ہے۔
پاکستان میں مختلف عالمی شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے جہادیوں کی آمد کا سلسلہ اکتوبر 2001 میں اس وقت شروع ہوا جب افغانستان پر امریکہ کی سربراہی میں بننے والے اتحاد کی طرف سے حملہ کیا گیا۔ اس حملے کے چند ہفتوں بعد سینکڑوں کی تعداد میں شدت پسندوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کا رخ کیا۔
ان عسکریت پسندوں میں اکثریت القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عرب جنگجوؤں کی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان میں اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ایسٹ ترکستان موومنٹ، چیچنیا، یورپ اور چین سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی۔

ابتدا میں یہ جہادی صرف جنوبی، شمالی وزیرستان اور کرم ایجنسی تک محدود رہے لیکن رفتہ رفتہ یہ پورے قبائلی علاقوں میں پھیل گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی حکومت تھی اور انہی کے دور میں غیر ملکیوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔
جہادی تنظیموں پر کام کرنے والے سینیئر صحافی سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں پاکستان میں اب غیر ملکیوں جہادیوں بالخصوص عرب اور ازبک جنگجوؤں کا اثر رسوخ تقریباً ختم ہو کر رہ گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ صرف شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے شوال میں چند غیرملکی جنگجو ہوسکتے ہیں جبکہ دیگر تمام علاقوں سے ان کا مکمل خاتمہ کردیا گیا ہے۔
سمیع یوسفزئی کا مزید کہنا ہے کہ آپریشن کی وجہ سے زیادہ تر عرب، ازبک اور چیچن شدت پسندوں نے پاکستان کے سرحد سے ملحق افغانستان کے صوبوں ننگرہار، زابل اور کنڑ کا رخ کیا ہے جہاں ان کے لیے روپوش رہنا نسبتاً آسان سمجھاجاتا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فوجی کارروائیوں کی وجہ سے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سمیت زیادہ تر مقامی شدت پسند تنظیمیں کافی حد تک کمزور ہوگئی ہیں جس سے غیر ملکی جنگجوؤں کےلیے یہاں رہنے کی گنجائش بہت کم باقی رہ گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ماضی میں یہ انتہا پسند تنظیمیں غیر ملکی جہادیوں کےلیے ڈھال کا کام کرتی رہی ہیں چاہے وہ پناہ کی صورت میں ہو یا کسی اور طریقے سے ان کی حفاظت کرنا مقصود ہو۔ تاہم حالیہ کاروائیوں کی وجہ سے بیشتر شدت پسندوں کو افغان علاقوں کی جانب بے دخل کیا گیا ہے یا وہ خفیہ مقامات پر روپوش ہیں۔
اعلیٰ سرکاری اہلکار یہ بھی کہتے ہیں کہ حالیہ کارروائیوں کے بعد قبائلی علاقوں سے ملحق پاک افغان سرحد ڈیورینڈ لائن پر نگرانی کا عمل انتہائی سخت کردیا گیا ہے اور اس ضمن میں وہاں سے پاکستان میں داخل ہونے والے افراد پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے اب اس بات کو قطعی طورپر برداشت نہیں کریں گے کہ کوئی غیر ملکی جنگجو پہلے کی طرح دوبارہ سے پاکستان میں داخل ہو اور یہاں اپنے ٹھکانے قائم کرے۔
شمالی وزیرستان افغانستان سے تعلق رکھنے والے حقانی نیٹ ورک کے جنگجوؤں کا بھی اہم گڑھ رہا ہے تاہم ضرب عضب کے بعد انہیں بھی اس علاقے سے بے دخل کیا گیا ہے۔ بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے بیشتر جنگجو افغانستان کے سرحدی علاقوں کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔ تاہم کچھ ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک کے شدت پسند قبائلی علاقوں میں بھی دیکھے گئے ہیں تاہم اس ضمن میں مصدقہ اطلاعات نہیں ملی ہے۔
افغان حکومت کی طرف سے حالیہ دنوں میں پاکستان پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ افغان طالبان کے اجلاس بدستور پاکستان میں منعقد ہورہے ہیں اور نئے امیر ملا منصور کی نامزدگی بھی کوئٹہ شہر میں ہوئی ہے تاہم پاکستان اس الزام کی سحتی سے تردید کرتا رہا ہے۔







