یوسف رضا گیلانی کی آٹھ مقدمات میں ضمانت منظور

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کی آٹھ مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے اُنھیں ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
خیال رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنی جماعت کے رہنماؤں کی گرفتاریوں اور ان کے حلاف عائد مقدمات پر اپنے ردعمل میں گذشتہ روز کہا تھا کہ نواز شریف حقیقی دشمن کو چیلنج کرنے کی بجائے پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس نورالحق قریشی نے ملزم یوسف رضا گیلانی سے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں ایک ایک لاکھ روپے کے آٹھ ضمانتی مچلکے عدالت میں جمع کروائیں۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہی ہے اور اُنھیں ایسے مقدمات میں بطور ملزم پیش کیا جارہا ہے جس میں اُن کا نام بھی نہیں ہے۔
یوسف رضا گیلانی کے وکیل اور سینیٹ کے سابق چیئرمین فاروق ایچ نائیک نے حفاظتی ضمانت کی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل نے ہمشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے اوروہ ان مقدمات میں بھی عدالت میں پیش ہونا چاہتے تھے لیکن کراچی کی ایک ٹرائل کورٹ نے اُن کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اس سے پہلے متعقلہ عدالت نے یوسف رضا گیلانی کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے سمن جاری نہیں کیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ
فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی اُن کے موکل مختلف مقدمات کی پیروی کے لیے عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں۔ اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اُن کے موکل متعلقہ عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں لہٰذا اُن کی حفاظتی ضمانت منظور کی جائے۔
اس پر عدالت نے یوسف رضا گیلانی کی آٹھ مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے اُنھیں سات روز میں کراچی کی متعلقہ عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان مقدمات کی سماعت کے دوران اُنھیں معلوم ہوا کہ اُن کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں بھی وہ ضمانت قبل ازگرفتاری کے لیے درخواست دائر کریں گے۔
یوسف رضا گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے اہلکار ایک شخص محمد زبیر کو تشدد کا نشانہ بنا کر اُنھیں سابق وزیر اعظم کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ محض ایک شخص کو تشدد کا نشانہ بنا کر اپنی مرضی کا بیان لے کر اُن کے موکل کو ان مقدمات میں شامل کرنے سے ایف آئی اے کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔
یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کے درمیان کے درمیان لندن میں طے پانے والے میثاق جمہوریت پر اُنھوں نے بطور وزیر اعظم عمل درآمد کروایا اور اب یہ موجودہ حکومت پر ہے کہ وہ امور کو کیسے سرانجام دیتی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی طرف سے پیر کے روز جاری ہونا والا بیان اُنھوں نے دلبرداشتہ ہو کر دیا ہے۔
یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت پر ہر قسم کا الزام لگایا جا سکتا ہے لیکن یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شدت پسندوں کی مالی معاونت کر رہی ہے جبکہ اس جماعت کی قیادت اور پارٹی کارکن خود شدت پسندی کا شکار ہوئے ہیں۔







