وفاقی حکومت عدالت میں گیلانی کے حق میں

زرداری نے نواز شریف سےگیلانی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پر شکوہ کیا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنزرداری نے نواز شریف سےگیلانی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پر شکوہ کیا تھا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سندھ ہائی کورٹ میں وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی ضمانت کی منسوخی کی مخالفت کر دی ہے۔

جسٹس عامر رضا نقوی کے روبرو بدھ کو وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اےنے یوسف رضا گیلانی کی ضمانت کی منسوخی کے لیے جب درخواست پیش کی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل اسلم بٹ نے اس کی مخالفت کی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل اسلم بٹ کا موقف تھا کہ ایف آئی اے نے متعلقہ حکام سے منظوری نہیں لی، لہٰذا اس درخواست کو قبول نہ کیا جائے۔ جس پر عدالت نے درخواست کو خارج کر دیا۔

گذشتہ ماہ کراچی میں انسداد بدعنوانی کی عدالت نے یوسف رضا گیلانی کی ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں بدعنوانی کے 12 مقدمات میں ضمانت منظور کر کے ان کی گرفتاری کے وارنٹ معطل کر دیے تھے۔

اپریل میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں جمہوریت کو مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہpid

،تصویر کا کیپشناپریل میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں جمہوریت کو مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا

اینٹی کرپشن عدالت میں جمعرات کو مقدمے کی سماعت ہونے سے پہلے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس کی وفاقی حکومت نے بظاہر تیکنکی بنیادوں پر مخالفت کی۔

واضح رہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے درمیان گذشتہ دنوں ملاقات میں آصف علی زرداری نے یوسف رضا گیلانی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پر شکوہ کیا تھا۔

ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سکینڈل میں سابق وفاقی وزیر مخدوم امین فہیم، ٹی ڈی اے کے افسران بشیر حسین رضوی، فرحان جونیجو، وزیراعظم سیکریٹریٹ کے ڈپٹی سیکریٹری محمد زبیر اور میاں محمد طارق کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔

ایف آئی اے کے مطابق ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں مختلف کمپنیوں کو جعلی سبسڈی کی مد میں دو ارب روپے کی بدعنوانی کی گئی تھی، جس میں 65 مقدمات دائر کیے گئے جن میں سے 12 کی تفتیش مکمل ہوگئی ہے۔ ان 12 مقدمات میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔