یوسف گیلانی، امین فہیم کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

ایف آئی اے نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وفاقی وزیر مخدوم امین فہیم اور ٹریڈ ڈولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے بعض افسران پر بدعنوانی کا مقدمہ درج کیا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنایف آئی اے نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وفاقی وزیر مخدوم امین فہیم اور ٹریڈ ڈولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے بعض افسران پر بدعنوانی کا مقدمہ درج کیا تھا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی کی انسدادِ بدعنوانی کی ایک عدالت نے سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وفاقی وزیرِ تجارت مخدوم امین فہیم کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم پر وفاقی تحقیقاتی ادارے نے بدعنوانی کا مقدمہ درج کیا ہے۔

ایف آئی اے نے چالان میں کہا ہے کہ اس مقدمے میں ٹریڈ ڈولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے سابق چیئرمین طارق اقبال پوری، سابق ڈی جی جاوید انور، عبدالکریم داؤد، پراجیکٹ ڈائریکٹر مرچو مل کھتری گرفتار ہیں اور ان کے بیانات کی روشنی میں یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم کے نام شامل کیے گئے ہیں۔

اس پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ <link type="page"><caption> حکومت اتنا ہی کرے جتنا وہ خود برداشت کرسکتی ہے۔</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/05/140529_gillani_reaction_on_arrest_warrant_rk.shtml" platform="highweb"/></link>

انہوں نے حج سکینڈل، اوگرا کے چیئرمین کی تقرری سمیت دیگر مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شاید ان مقدمات میں وہ واحد فریق ہیں جو نوٹسز وصول بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اور بھی اگر کچھ مقدمات ہیں تو حکومت سب میں ان کا نام شامل کر دے تاکہ وہ بار بار کی زحمت سے بچ سکیں۔

یاد رہے کہ مخدوم امین فہیم کے خلاف این سی ایل کا بھی ایک مقدمہ پہلے ہی زیرِ سماعت ہے۔

انسدادِ بدعنوانی کی عدالت کے جج محمد عظیم نے بدھ کو ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر کے ملزمان کو چھ جون کو پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وفاقی وزیر مخدوم امین فہیم اور ٹریڈ ڈولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے بعض افسران پر بدعنوانی کا مقدمہ درج کیا تھا۔

اس سکینڈل میں اس وقت ڈرامائی تبدیلی آئی جب ایک ملزم فردوس وعدہ معاف گواہ بن گیا۔

فردوس نے اعتراف کیا کہ اس نے بحری اور بری کارگو کے کرائے میں رعایت کے بدلے میں سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کرکے 50 لاکھ بطور پہلی قسط ادا کیے اس کے علاوہ مخدوم امین فہیم اور محکمے کے دیگر افسران کو بھی ادائیگی کی گئی۔

ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق سابق وزیر اعظم یوسف رضا کی ہدایت پر کارگو کے کرائے کی مد میں 43 کروڑ روپے جاری کیے گئے جس میں سے اکثر ادائیگیاں جعلی کمپنیوں کو کی گئیں۔