نواب بگٹی کی نویں برسی پر بلوچ علاقوں میں ہڑتال

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے اکثر علاقوں میں بلوچ رہنما نواب محمد اکبر خان بگٹی کی نویں برسی کے موقعے پر بدھ کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے جس کا اثر بلوچ آبادی والے علاقوں میں زیادہ ہے۔
ادھر ضلع کیچ میں مزید دو افراد کی لاشیں ملی ہیں جبکہ کوئٹہ کے نواح میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں چار شدت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
<link type="page"><caption> بگٹی کیس: مشرف سمیت تمام ملزمان پر فردِ جرم عائد</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/01/150114_bugti_case_indicment_zs" platform="highweb"/></link>
صوبے میں ہڑتال کی کال بلوچ رپبلکن پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی نے دی تھی جبکہ بعض دیگر بلوچ قوم پرست جماعتوں نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔
ہڑتال کی کال کے باعث کوئٹہ شہر کے متعدد علاقوں کے علاوہ بلوچستان کی بلوچ آبادی والے زیادہ تر علاقوں میں کاروباری مراکز بند ہیں۔
اس موقعے پر کوئٹہ شہر اور دیگر علاقوں میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کیا گیا ہے۔
نواب بگٹی 26 اگست 2006 میں سابق آمر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایک فوجی آپریشن کے دوران مارے گئے تھے۔
اس ہلاکت کے بعد بلوچستان کے بلوچ آبادی والے علاقوں میں بدامنی کے واقعات میں اضافہ ہو گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری حکام جہاں چند بلوچ قوم پرست سرداروں اور سخت گیر موقف کے حامل بلوچ قوم پرست عناصر کو اس کے ذمہ دار ٹھہراتے رہے، وہیں انھوں نے بیرونی مداخلت بالخصوص بھارت کو بھی مورد الزام قرار دیا۔
مشرف دور میں حکام کا کہنا تھا کہ حکومت نے بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا ہے جس سے بلوچستان میں خوشحالی آئے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ان اقدامات سے بلوچستان کے لوگ چند قبائلی سرداروں کی گرفت سے آزاد ہو جائیں گے اس لیے انھوں نے ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے شورش برپا کی ہے۔
ان الزامات کے برعکس بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں مشرف حکومت کی پالیسیوں کو حالات کی خرابی کا ذمہ دار ٹھہراتی رہیں اور ان کے مطابق میگا پروجیکٹس کے نام پر بلوچستان کے وسائل کو یہاں کے عوام کی مرضی کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کا یہ موقف تھا کہ بلوچستان کے وسائل پر یہاں کے لوگوں کا اختیار نہ ہونے کی وجہ سے پہلے بھی ان وسائل سے انھیں فائدہ نہیں ملا اور آئندہ بھی نہیں ملے گا، بالخصوص گوادر میں میگا پروجیکٹس کے نام پر باہر سے ایک بڑی آبادی کو لا کر وہاں کی مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
بلوچستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو مختلف واقعات میں چھ افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
ان میں سے دو افراد کی لاشیں بدھ کی صبح ضلع کیچ سے ملیں جبکہ چار افراد گذشتہ شب سکیورٹی فورسز کی ایک کاروائی میں مارے گئے۔
کیچ میں انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق انہیں بل نگور میں لاشوں کی موجودگی اطلاع ملی تھی جس پر لیویز فورس کے اہلکاروں نے وہاں سے دو افراد کی لاشیں برآمد کیں جنہیں نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا ۔
دونوں افراد کی شناخت ہوگئی ہے جن میں سے ایک کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے مند جبکہ دوسرے کا تعلق ضلع گوادر سے ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ دونوں افراد گذشتہ روز گوادر سے مند کے لیے نکلے تھے۔ تاحال ان کو ہلاک کرنے کے محرکات معلوم نہیں ہو سکے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران سے متصل ضلع کیچ کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں پہلے بھی بد امنی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔
دیگر چار افراد کی ہلاکت کا واقعہ سیکورٹی فورسز کی ایک کاروائی میں کوئٹہ شہر کے نواحی علاقے میاں غنڈی میں پیش آیا جہاں سرکاری ذرائع کے مطابق حساس اداروں اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے مشترکہ کارروائی کی۔
فائرنگ کے تبادلے میں مذہبی فرقہ وارانہ کاروائی میں ملوث شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے چار افراد ہلاک ہوئے جن میں شدت پسند تنظیم کا ایک کمانڈر بھی شامل ہے ۔
ذرائع کے مطابق اس کاروائی کے دوران فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار بھی زخمی ہوا۔
ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کوئٹہ اور گردونواح کے مختلف علاقوں میں فرقہ واریت کی بنیاد پر شدت پسندی کی مختلف کاروائیوں میں ملوث تھے۔







