بگٹی کیس: مشرف پھر عدالت میں پیش نہیں ہوئے

،تصویر کا ذریعہnone
بلوچ سردار اور صوبۂ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب اکبر بگٹی کے قتل کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف ایک بار پھر عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
عدالت نے ان کے ضامنوں کو تاکید کی ہے کہ وہ آئندہ پیشی پر ان کی حاضری کو یقینی بنائیں۔
ہمارے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بدھ کو کوئٹہ میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت ہونے والی سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل نے اپنے موکل کے بیماری کی میڈیکل رپورٹ جمع کی اور عدالت سے استدعا کی کہ ان کے موکل کو آج کی پیشی سے استثنیٰ دیا جائے۔
نواب بگٹی کے وکیل سہیل راجپوت ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ پرویز مشرف کی عدالت میں پیشی سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ پرویز مشرف سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ٹال مٹول سے کام لے کر عدالت میں پیش نہیں ہو رہے۔
عدالت نے پرویز مشرف کی آج کی پیشی سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کے ضامنوں کو تاکید کی کہ وہ آئندہ پیشی پر ان کی عدالت میں حاضری کو یقینی بنائیں۔
یاد رہے کہ پرویز مشرف اب تک اس مقدمے میں ہونے والی کسی بھی سماعت کے موقعے پر پیش نہیں ہوئے۔
اس مقدمے میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر کی ضمانت منظور کر رکھی ہے جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ سلامتی کے خدشات کے پیشِ نظر اس کیس کی سماعت اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔
بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اور بگٹی قبیلے کے سردار نواب اکبر خان بگٹی اگست 2006 میں ایک فوجی آپریشن کے دوران مارے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کی ہلاکت کے بعد نواب بگٹی کے صاحبزادے جمیل اکبر بگٹی کی درخواست پر بلوچستان ہائیکورٹ نے ان کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا جس میں پرویز مشرف کے علاوہ آفتاب شیرپاؤ، شعیب نوشیروانی، سابق وزیرِاعظم شوکت عزیز، سابق گورنر بلوچستان اویس احمد غنی اور سابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی صمد لاسی کو بھی ملزم نامزد کیا گیا تھا۔







