بگٹی کیس: پرویز مشرف کو کوئٹہ پیش کرنے کا حکم

بلوچستان حکومت نے درخواست دائر کر رکھی ہے کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے نواب اکبر بُگٹی کے قتل کا مقدمہ اسلام آباد یا راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کردیا جائے
،تصویر کا کیپشنبلوچستان حکومت نے درخواست دائر کر رکھی ہے کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے نواب اکبر بُگٹی کے قتل کا مقدمہ اسلام آباد یا راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کردیا جائے

کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بُگٹی کے قتل میں بری فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو 30 جولائی تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان حکومت نے بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے نواب اکبر بُگٹی کے قتل کا مقدمہ اسلام آباد یا راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کردیا جائے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس مقدمے میں ملزم پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست پر سماعت 22 جولائی تک متلوی کر دی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کے جج نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ملزم بلوچستان کی عدالت میں مطلوب ہے جب کہ اُسے اسلام آباد میں رکھا ہوا ہے۔

ادھر اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس ناصر الملک نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو جبس بےجا میں رکھنے سے متعلق ضمانت کی منسوخی سے متعلق درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل ہونے سے معذرت کرلی ہے۔

اس کے بعد اس درخواست کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا ہے۔ اب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نیا بینچ تشکیل دیں گے۔

اس درخواست کی سماعت کے لیے تشکیل دیے جانے والے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ناصر الملک کا کہنا ہے کہ وہ تین نومبر 2007 میں سابق فوجی صدر کی طرف سے ملکی میں ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے اُس سات رکنی بینچ میں شامل تھے جنہوں نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور سول اور فوجی حکام کو آرڈر کیا تھا کہ وہ ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران پرویز مشرف کے احکامات کو تسلیم نہ کریں۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ وہ بھی اعلیٰ عدلیہ کے اُن ججوں میں شامل تھے جنہیں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گھروں میں نظر بند کردیا گیا تھا۔ جسٹس ناصر الملک کا کہنا تھا کہ اس درخواست کی سماعت کے دوران اگر ملزم کی ضمانت منسوخ ہوجاتی ہے تو پھر یہ تاثر سامنے آئے گا کہ جج نے جانب داری کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس سے پہلے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے آٹھ جولائی کو اس درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ سے علیٰحدگی اختیار کرلی تھی اور کہا تھا کہ یہ اُن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اس درخواست کی سماعت کریں۔

اس درخواست کی سماعت کے لیے چیف جسٹس نیا بینچ تشکیل دیں گے جب کہ اس مقدمے کے مدعمی اسلم گھمن ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اُن کی درخواست کی فوری سماعت کی جائے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعلی عدلیہ کے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں پرویز مشرف کی ضمانت منظور کرلی تھی۔