اکبر بگٹی کیس میں پرویز مشرف گرفتار

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں پولیس نے صوبے کے سابق وزیر اعلیٰ نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو باقاعدہ طور پر گرفتار کرلیا ہے۔

بلوچستان پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے استدعا کی ہے کہ جب تک اکبر بُگٹی قتل کیس کا مقدمہ اسلام آباد یا راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں ہوجاتا اُس وقت تک ملزم کو اُن کے فارم ہاؤس میں ہی رکھا جائے جسے سب جیل قرار دیا گیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ اس مقدمے کے تفتیشی افسر سردار خان نے اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کوثر عباس زیدی کے سامنے ملزم پرویز مشرف کے چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ کی درخواست کی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ پہلے اس بات کو تو واضح کریں کہ ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے یا نہیں۔

عدالت کے حکم پر نواب اکبر بُگٹی قتل کے مقدمے کی تفتیشی ٹیم نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو اس مقدمے میں گرفتار کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ اے آئی جی کرائم برانچ کوئٹہ کی سربراہی میں پولیس کی چار رکنی ٹیم بارہ جون کو پرویز مشرف کو گرفتار کرنے کے لیے اسلام آباد پہنچی تھی۔

یاد رہے کہ سابق فوجی صدر کی دو مقدمات میں ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں۔ ان میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمات شامل ہیں۔

تفتیشی ٹیم نے جج کو بتایا کہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اُنہیں پرویز مشرف کو شامل تفتیش کرنے کی اجازت دی تھی اور اُس وقت ملزم دیگر بینظیر بھٹو اور ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمات میں شامل تفتیش رہے ہیں۔

سردار خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت نے نواب اکبر بُگٹی کے قتل کا مقدمہ اسلام آباد یا راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کرنے سے متعلق بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

تفتیشی ٹیم کی جانب سے عدالت میں جمع کروائے گئے پرچہ ریمانڈ میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے پرویز مشرف کو مارنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔

اس کے علاوہ ملزم پرویز مشرف جو کہ سابق آرمی چیف بھی رہے ہیں، کی سر کی قمیت بھی مختلف کالعدم تنظیموں کی طرف سے مقرر کی جاچکی ہے۔

عدالت نے تفتیشی ٹیم کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے پرویز مشرف کے جوڈیشل ریمانڈ میں چودہ روز کی توسیع کرتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت ستائیس جون تک کے لیے ملتوی کردی۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر سردار خان نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ اگر عدالت اُن کی استدعا مسترد کرتی تو ملزم پرویز مشرف کو کوئٹہ لیکر جانے کے لیے انتظامات مکمل تھے اور اس ضمن میں ایک خصوصی طیادہ ہوائی اڈے پر تیار کھڑا ہے۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ملک مشتاق اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس تفتیشی ٹیم نے ابھی تک فارم ہاؤس کا دورہ نہیں کیا جہاں پر ملزم پرویز مشرف کو رکھا گیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ گُزشتہ چند روز کے دوران کوئٹہ پولیس نے ملزم سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی۔ اسلام آباد میں یہ افواہیں گردش کرتی رہی ہیں کہ سابق فوجی صدر کو کوئٹہ لےجایا جارہا ہے۔