مقدمۂ قتل میں میاں افتخار حسین کی ضمانت پر رہائی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ کی ایک مقامی عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن کے مقدمۂ قتل میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر میاں افتخار حسین کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کر دیا ہے۔
میاں افتخار حسین کو پولیس نے سنیچر کو رات گئے اس وقت حراست میں لیا تھا جب نوشہرہ کے علاقے پبی میں اے این پی کے دفتر کے سامنے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے جلوس پر فائرنگ سے تحریکِ انصاف کا کارکن حبیب اللہ ہلاک ہو گیا تھا۔
ان کے خلاف دفعہ 302، 324 اور 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اس مقدمے میںسابق صوبائی وزیر کی گرفتاری پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور وزیرِ اعظم پاکستان سمیت متعدد سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس پر تشویش ظاہر کی تھی۔
اے این پی نے بھی میاں افتخار کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے صوبائی حکومت کی جانب سے سیاسی انتقام قرار دیا تھا۔
میاں افتخار حسین کو منگل کی صبح پولیس کی سخت سکیورٹی میں نوشہرہ کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔
جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت میں ملزم کی جانب سے ضمانت کے لیے دائر درخواست پر وکلا کی جانب سے دلائل دیے گئے جس کے بعد عدالت نے ملزم کی درخواست منظور کرتے ہوئے دو لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے ان کی رہائی کے احکامات جاری کر دیے۔
اس موقعے پر کچہری کی حدود میں اے این پی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل پیر کو مقتول کے والد نے عدالت میں تحریری بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی ملزم میاں افتخار حسین پر کوئی دعویداری نہیں اور نہ وہ ان کو ایف آئی آر میں نامزد کرنا چاہتے ہیں۔
مقتول کے والد کے طرف سے عدالت میں ایک راضی نامہ بھی پیش کیا گیا جس کے تحت ملزم کے خلاف تمام تر الزامات واپس لے لیے گئے۔
پیر کو عدالت میں پیشی کے موقعے پر میاں افتخار حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہییں کہ انھیں اس قتل کے مقدمے میں کیوں ملوث کیا جا رہا ہے اور عمران حان کو اس واقعے کا نوٹس لینا چاہیے۔
انھوں نے بتایا کہ مقتول حبیب اللہ کے والد نے جلوس کی جانب سے حملے کے دوران ان کی مدد بھی کی تھی اور عدالت میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کا مجھ پر کوئی دعویٰ نہیں ہے۔
میاں افتخار کا کہنا تھا کہ حبیب اللہ کے والد نے کہا ہے کہ ’میاں صاحب میرے بزرگ ہیں، میری ان پر کوئی دعوے داری نہیں ہے، البتہ جس بندے نے میرے بیٹے کو مارا ہے اسے سزا ملے تو مجھے خوشی ہو گی۔‘
اے این پی کے رہنما نے اس الزام کو بھی مسترد کیا تھا کہ مقتول حبیب اللہ کو ان کے گارڈ نے قتل کیا۔







