بلدیاتی انتخاب میں جیت کے بعد جشن، فائرنگ سے آٹھ ہلاک

بلدیاتی انتخابات کے دوران اور بعد میں پیش آنے والے واقعات میں اب تک کم ازکم 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبلدیاتی انتخابات کے دوران اور بعد میں پیش آنے والے واقعات میں اب تک کم ازکم 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک میں حکام کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں جیتنے والے امیدوار کی طرف سے جشن منانے کے دوران دو گروپوں میں فائرنگ کے نتیجے میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک اور دس کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی رات ٹانک شہر سے تقریباً 16 کلومیٹر دور کڑی حیدر کے علاقے میں پیش آیا۔

ٹانک پولیس کے ایک اہلکار شیر افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ بلدیاتی انتخابات میں جیتنے والے ایک امیدوار ولی خان کی طرف سے محفلِ موسیقی کا اہتمام کیا گیا تھا اور وہاں موجود افراد ڈھول کی تھاپ پر روایتی رقص کررہے تھے کہ اس دوران دو گروپوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ فائرنگ سے دونوں جانب سے آٹھ افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے جنہیں ڈیرہ اسمعیل خان منتقل کردیا گیا ہے۔

پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مرنے والے افراد کا تعلق دو گروپوں سے بتایا جاتا ہے جن میں عرصہ دراز سے دشمنی چلی آرہی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ محفلِ موسیقی کے دوران دونوں گروپوں کے افراد مسلح ہوکر وہاں موجود تھے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ فائرنگ کس بات پر شروع ہوئی اور پہل کس گروپ نے کی۔

خیال رہے کہ سنیچر کو صوبے بھر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں بدترین تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں جس میں اب تک کم سے کم اٹھارہ افراد ہلاک اور سو سے زآئد زخمی ہوچکے ہیں۔ مرنے والوں میں سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا کہ الیکشن کے دوران ہنگامہ آڑائی اور فائرنگ کرنے کے جرم میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق بیشتر اضلاع میں پولیس نے ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد کو روکنے میں تاخیر سے کام لیا۔

ادھر صوبائی حکومت نے الزام لگایا ہے کہ پولنگ کے دوران بدنظمی کی ذمہ داری صوبائی الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے ۔ تاہم دوسری طرف الیکشن کمیشن کے حکام نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ حکومت اور سیاسی جماعتیں اپنی ناکامی کا ملبہ ان کے سر پر ڈال رہی ہیں۔