بلدیاتی انتخابات میں شکایات کا ذمہ دار کون؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونحوا میں سنیچر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں دس کے قریب افراد ہلاک اور 90 سے زائد زخمی ہوئے، صوبہ بھر سے پولنگ کے دوران بدنظمی، مار دھاڑ ، کھولے عام اسلحے کی نمائش، خواتین کو حق رائے دہی سے محروم کرنا اور دھاندلی جیسے کئی شکایات سامنے آئی ہیں لیکن کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ بدنظمی اور تشدد کے واقعات کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوتی بلکہ اس سلسلے میں تمام تر ذمہ داری صوبائی الیکشن کمیشن کی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ مکمل انتظامی اور پولیس کے اختیارات الیکشن کمیشن کو دے دیے گئے تھے اور یہ ان کا کام تھا کہ وہ حالات کو کنٹرول کرتے۔
انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس یہ اختیار بھی تھا کہ وہ فوج کو طلب کرسکتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا ۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اتوار کی شام بنی گالا میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ کے دوران بدنظمی اور تشدد روکنے کی ذمہ داری صوبائی الیکشن کمیشن کی تھی لہٰذا ذمہ داری بھی ان پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولنگ کے دوران جب انہیں تشدد کے واقعات کی اطلاعات ملی تو انہوں نے فوراً وزیراعلی پرویز خٹک سے رابط کیا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ سارے اختیارات تو الیکشن کمیشن کو منتقل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اتنے بڑے انتخابات کے انعقاد کے لیے پہلے سے بھرپور تیاری کرنی چاہیے تھی تاہم انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تحقیقات کی جائیں گی تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا تدارک کیا جا سکے۔
لیکن دوسری طرف صوبائی الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ حکومت یا سیاسی جماعتیں جب بھی ناکام ہوتی ہیں تو اس کا سارا ملبہ الیکشن کمیشن کے سر پر ڈال دیا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
الیکشن کمیشن خیبر پِختونخوا کے ڈپٹی ڈائریکٹر خوشحال زادہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کوئی قانون ساز ادارہ نہیں کہ کوئی قانون بنائے یا ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
ان کے مطابق افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب بھی بدنظمی یا کوئی اور الزام لگتا ہے تو ذمہ دار الیکشن کمیشن کو قرار دیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انہوں نے حالیہ چناؤ کے دوران کچھ اضلاع میں خواتین کو ووٹنگ کے عمل سے روکنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملک میں ایسا کوئی قانون ہی نہیں کہ اگر کسی علاقے میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا جاتا ہے اور بعد میں وہ انتخابات کالعدم قرار دیے جائیں۔
خوشحال زادہ کے مطابق حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کو ایسے قوانین بنانے چاہیے کہ اگر کسی علاقے میں خواتین کو حق رائے دہی سے محروم کیا جاتا ہے تو وہاں انتخاب کو کالعدم قرار دیا جائے۔
اس میں شک نہیں کہ سنیچر کو ہونے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات صوبے کی تاریخ کے سب سے بڑے بلدیاتی انتخابات قرار دیے جا رہے ہیں جس میں بڑی تعداد میں امیدواروں نے حصہ لیا۔ تاہم یہ بات بھی درست ہے کہ ’تبدیلی اور شفافیت ’ کا دعویٰ کرنے والی تحریک انصاف کی حکومت میں بدتردین تشدد اور بدنظمی کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے۔
پولنگ کا عملہ عدلیہ سے نہ ہونے کی وجہ سے مختلف اضلاع میں حکومت پر دھاندلی کے الزامات لگے ہیں۔
سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ پولنگ کا عملہ صوبائی حکومت کے ماتحت اداروں پر مشتمل تھا جن میں سکول کے اساتذہ، سرکاری افسران شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ کئی علاقوں میں سرکاری اور پولیس اہلکار حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لیے ووٹ مانگتے رہے اور ان کےلیے جعلی ووٹ ڈالتے ہوئے رنگے ہاتھ پکڑے بھی گئے ہیں لیکن کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
کئی شہری علاقوں میں سیاسی جماعتوں کے کارکن کھولے عام اسلحہ کی نمائش کرتے ہوئے نطر آئے جس سے پولنگ کا ماحول کشیدگی کا شکار رہا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ادھر صوبے کے مختلف اضلاع سے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک مجموعی طورپر تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے۔ دوسری نمبر پر عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔
دو سال پہلے ہونے والے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے ہاتھوں بدترین شکست سے دوچار ہونے والی صوبے کی بڑی سمجھی جانے والی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے حالیہ انتخابات میں کچھ بہتری دکھائی ہے۔ اے این پی نے ان اضلاع میں دوبارہ برتری حاصل کی ہے جو ان کے روایتی گڑھ رہے ہیں جن میں صوابی، چارسدہ، مردان، بونیر اور پشاور کے کچھ علاقے شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں اے این پی کے پارلیمانی رہنما سردار حسین بابک کا کہنا ہے کہ حالیہ انتخابات کے دوران ان کی جماعت کو کچھ حد تک انتخابی مہم چلانے کی موقع ملا جس کی وجہ سے پارٹی کی پوزیشن کچھ بہتر ہوئی۔ ان کے مطابق اگر اے این پی کو تحریک انصاف یا دیگر جماعتوں کی طرح آزادانہ طور پر مہم چلائی جانے دی جاتی تو پارٹی کی پوزیشن اس سے بہتر ہوتی۔
تاہم گذشتہ عام انتخابات کی طرح اس بلدیاتی چناؤ میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو بظاہر بدترین شکست کا سامنا ہے۔ پی پی پی کی پوزیشن صوبے کے دیگر چھ سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں پانچویں نمبر پر ہے۔







