میاں افتخار کی گرفتاری: نواز شریف کی تشویش، عمران کی برہمی

لند میں بی بی سی کے دفتر میں میاں افتخار
،تصویر کا کیپشنمیاں افتخار حسین پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے

وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف نے خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین کی گرفتاری اور انھیں مبینہ طور پر زدوکوب کرنے پر تشویش ظاہر کی ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق انھوں نے کے پی کے انسپکٹر جنرل پولیس، انٹیلیجنس بیورو اور دیگر ایجنسیوں سے اس واقعے کی رپورٹ بھی طلب کی ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ سیاسی شخصیات کے ساتھ باعزت طریقے سے سلوک کیا جائے جو کہ قانون کے دائرے میں ہو۔

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے اتوار کو وفاقی حکومت اور سابق صدر آصف علی زرداری پر سخت برہمی کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے میاں افتخار کی گرفتاری کو سیاسی قرار دیا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ سندھ اور پنجاب کی پولیس کی طرح خیبر پختونخوا کی پولیس کسی سیاسی اثر کے تحت نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ صوبائی حکومت میں کسی نے بھی میاں افتخار کی گرفتاری کے لیے نہیں کہا ہے۔

’زرداری صاحب یہ کوئی سندھ کی پولیس نہیں ہے جو ذوالفقار مرزا کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ ہم نے نہ تو گرفتاری کا حکم دیا اور نہ ہی اسے منسوخ کرنے کا کہیں گے۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے میاں افتخار حسین کی گرفتاری پر شدید تنقید کی تھی۔

سابق صدر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے لیاقت شباب اور عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار جیسے سیاسی مخالفین کی گرفتاری عمران کے ان دعوؤں کی تردید کرتی ہے صوبے میں کوئی سیاسی قیدی نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ گرفتاریاں ایک آمرانہ ذہنی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔

اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے میاں افتخار حسین کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پولیس اور انتظامیہ پاکستان تحریک انصاف کا آلہ کار بنی ہوئی ہیں۔

اس کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے افتخار حسین کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ کو احکامات جاری کیے ہیں کہ صوبائی حکومت سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کریں۔