خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات، گنتی کا عمل جاری

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سید انور شاہ
- عہدہ, سوات
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
بلدیاتی انتخابات کےلیے ووٹنگ کا عمل سنیچر کی صبح اٹھ بجے سے شروع ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہا ۔
تاہم مختلف اضلاع میں پولنگ کا عمل دیر سے شروع ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ صوبے میں مجموعی طور پر 41762 نشستوں کے لیے 84420 امیدوار مدمقابل ہیں۔
صوبے کے چوبیس اضلاع میں ایک کروڑ 41 لاکھ سے زائد ووٹرز کواپنے رائے دہی حق کا استعمال کرنا تھا۔ کل 11 ہزار یک سو سترہ پولنگ سٹیشن قائم کئےگئے جن میں دو ہزار پانچ سو پولنگ سٹیشنز کوحساس قرار دیاگیا تھا۔
صوبے کےمختلف اضلاع میں موبائل سروس بند کر دینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
صوبے کے مختلف اضلاع میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش نہ ہونے کی وجہ سے ایک لاکھ کے قریب سکیورٹی اہلکار تعینات کئےگئے جبکہ کسی بھی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر فوج کو بھی سٹینڈ بائی رکھا گیا۔
ملاکنڈ ڈویژن کے جی او سی میجر جنرل نادر خان نے اس حوالے سے بتایا کہ امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائےگا سکیورٹی ذرائع کے مطابق داخلی و خارجی راستوں پر گزرنے والے افراد اور گاڑیوں خصوصی نظر رکھی جا رہی ہیں۔
صوبے میں اقلیتوں کے نشستوں کے کی تعداد تین ہزار تین سو انتالیس ہیں۔ تاہم صوبے کے زیادہ ترعلاقوں میں اقلیتی آبادی نہ ہونے کی وجہ ڈھائی ہزار سے زائد نشستیں خالی رہ گئی اور اب تین سو انچاس امیدوار سامنے آئے۔ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سکھ اور مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتیں رہائش پذیر ہیں اور صوبے میں ان کی نمائندگی بھی موجود ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
الیکشن کمیشن کی جانب سے پریذائیڈنگ افسران کو درجہ اول کے مجسٹریٹی اختیارات دیے گئے تھے جو انتخابی عمل کے دوران دراندازی کرنے والوں کو موقع پر قید اور جرمانوں کی سزائیں سنا سکیں۔
سنیچر کو صوبے کے 24 اضلاع میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں لگ بھگ 44 ہزار نشستوں کے لیے 93 ہزار سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں۔
سرکاری ریڈیو کے مطابق بلدیاتی انتخابات میں کل 41762 نشستوں کے لیے 84420 امیدوار مدمقابل ہیں۔
یہ انتخابات ضلع، تحصیل یا ٹاؤن کی سطح کے انتخاب جماعتی بنیاد پر جبکہ یونین کونسل یا دیہات کونسل کی سطح کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوئے۔
ان انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کا کہنا ہے کہ کامیابی کے بعد وہ اپنے علاقے کے مسائل کے حل کے لیے کوششیں کریں گے۔







