’شکار پور حملے میں مقامی معاونت موجود ہے‘

شکار پور کی امام بارگاہ میں خودکش دھماکے سے 61 افراد کی ہلاکت پر سنیچر کو صوبے بھر میں سوگ منایا گیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنشکار پور کی امام بارگاہ میں خودکش دھماکے سے 61 افراد کی ہلاکت پر سنیچر کو صوبے بھر میں سوگ منایا گیا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر شکار پور کی امام بارگاہ میں خودکش بم حملے میں شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی عمر 18 سے 20 سال کے درمیان تھی جبکہ اس کا رنگ سفید اور بال بھورے ہیں۔

تفتیش کاروں کو جائے وقوع سے چار انگلیاں بھی ملی ہیں۔

ایک تفتیشی افسر کے مطابق خودکش حملے کے لیے بٹن انگوٹھے سے دبایا جاتا ہے جس کے بعد انگوٹھا دھماکے کے باعث اڑ جاتا ہے اس لیے اب انگلیوں کی مدد سے اسکیننگ کی جائے گی۔

پولیس کو یہ بھی شبہ ہے کہ حملہ آور مقامی ہے تاہم ابھی مزید تحقیقات ہونی باقی ہیں۔

ایس ایس پی سی آئی ڈی راجہ عمر خطاب کے مطابق اس حملے میں مقامی مدد اور معاونت موجود ہے جس کے بغیر اتنی بڑی کارروائی ممکن نہیں تھی۔

سی آئی ڈی پولیس کی ٹیم خصوصی طور پر شکارپور پہنچی ہے جہاں شہادتیں جمع کی گئیں۔

اس ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی راجہ عمر کے مطابق شکار پور میں اس سے پہلے بھی فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں لیکن اس بار بڑے پیمانے پر کارروائی کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے محرم کی مجلس، سابق رکن اسمبلی ابراہیم جتوئی پر خودکش حملے اور درگاہ حاجن شاہ میں بم دھماکے کے واقعات پیش آ چکے ہیں جبکہ چند ماہ قبل ایک شیعہ عالم کی ٹارگٹ کلنگ بھی کی گئی تھی۔

شکار پور دھماکے میں 61 افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں جو سندہ میں اب تک فرقہ ورانہ دہشت گردی کے کسی بھی واقعے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

ایس ایس پی راجہ عمر کے مطابق جس وقت حملہ کیا گیا امام بارگاہ میں نمازی بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سروں پر زیادہ چوٹیں آئیں جس سے ہلاکتیں زیادہ ہوئی ہیں۔

 شکار پور دھماکے میں 61 افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں جو سندہ میں اب تک فرقہ ورانہ دہشت گردی کے کسی بھی واقعے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن شکار پور دھماکے میں 61 افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں جو سندہ میں اب تک فرقہ ورانہ دہشت گردی کے کسی بھی واقعے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں

سی آئی ڈی پولیس کو اس دھماکے میں لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کا بھی شبہ ہے۔

اس سے پہلے مقامی میڈیا کے مطابق جنداللہ اور جیش الاسلام پاکستان نے اس واقعے کی الگ الگ ذمے داری قبول کی تھی۔

ایس ایس پی سی آئی ڈی مظہر مشوانی کا کہنا ہے کہ شکار پور بم دھماکہ اور کراچی میں مسجد حیدری اور امام بارگاہ علی رضا خودکش بم حملوں میں مماثلت ہے اور ان دونوں دھماکوں میں لشکر جھنگوی ملوث تھی۔

گذشتہ ماہ شکارپور کے قریبی شہر سکھر کی سینٹرل جیل میں لشکر جھنگوی کے تین اراکین محمد شاہد حنیف، محمد طلحہ حسین اور خلیل احمد عرف حسن جان کو پھانسی دی گئی تھی۔

ملزمان پر سنہ 2001 میں کراچی کے علاقے ناظم آباد میں فائرنگ کر کے محکمۂ دفاع کے ڈائریکٹر ظفر حسین شاہ کو قتل کرنے کا الزام تھا۔

دوسری جانب سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے تسلیم کیا ہے کہ کراچی کے علاوہ دیگر علاقوں کو نظر انداز کیا گیا ہے لیکن دہشت گرد کہیں بھی ہوسکتے ہیں۔

سید قائم علی شاہ نے شکارپور میں امن و امان کے بارے میں اجلاس کی صدارت اور زخمیوں کی عیادت کی۔

وزیر اعلیٰ نے مدارس کے بارے میں محتاط موقف اختیار کیا اور کہا کہ وہ مدارس کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتے لیکن اب ان کی بھی مانیٹرنگ ہوگی۔