ہلاکتوں پر احتجاج اور دھرنے

شکار پور کی امام بارگاہ میں خودکش دھماکے سے 61 افراد کی ہلاکت پر یوم سوگ، احتجاج اور مظاہرے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر شکار پور کی ایک امام بارگاہ میں خودکش دھماکے سے 61 افراد کی ہلاکت پر سنیچر کو صوبے بھر میں سوگ منایا جا رہا ہے اور مختلف مقامات پر احتجاج جاری ہے
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر شکار پور کی ایک امام بارگاہ میں خودکش دھماکے سے 61 افراد کی ہلاکت پر سنیچر کو صوبے بھر میں سوگ منایا جا رہا ہے اور مختلف مقامات پر احتجاج جاری ہے
اس موقعے پر صوبے بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے
،تصویر کا کیپشناس موقعے پر صوبے بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے
کراچی میں نمائش چورنگی، ملیر اور ابوالحسن اصفہانی روڈ پر جمعے کی شب سے ہی احتجاجی دھرنے جاری رہے
،تصویر کا کیپشنکراچی میں نمائش چورنگی، ملیر اور ابوالحسن اصفہانی روڈ پر جمعے کی شب سے ہی احتجاجی دھرنے جاری رہے
شیعہ تنظیم مجلس وحدت المسلمین نے شکار پور دھماکے کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے جبکہ اس تنظیم کے علاوہ شیعہ علما کونسل کی اپیل پر سنیچر کو صوبے بھر میں ہڑتال کی گئی
،تصویر کا کیپشنشیعہ تنظیم مجلس وحدت المسلمین نے شکار پور دھماکے کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے جبکہ اس تنظیم کے علاوہ شیعہ علما کونسل کی اپیل پر سنیچر کو صوبے بھر میں ہڑتال کی گئی
صوبہ سندھ میں اس سانحے پر سرکاری سطح پر ایک دن کا سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ شکار پور سمیت اندونِ سندھ کے کئی شہروں میں کاروبارِ زندگی معطل رہا
،تصویر کا کیپشنصوبہ سندھ میں اس سانحے پر سرکاری سطح پر ایک دن کا سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ شکار پور سمیت اندونِ سندھ کے کئی شہروں میں کاروبارِ زندگی معطل رہا
کراچی کے علاوہ لاڑکانہ، حیدرآباد سمیت سندھ کی دیگر شہروں میں بھی سنیچر کو احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ یوم سوگ کی وجہ سے کراچی میں ٹریفک نہ ہونے کے برابر رہی
،تصویر کا کیپشنکراچی کے علاوہ لاڑکانہ، حیدرآباد سمیت سندھ کی دیگر شہروں میں بھی سنیچر کو احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ یوم سوگ کی وجہ سے کراچی میں ٹریفک نہ ہونے کے برابر رہی
شکارپور کے علاقے لکھی در میں جمعے کی دوپہر کربلائے معلی نامی امام بارگاہ میں ایک دھماکہ ہوا تھا
،تصویر کا کیپشنشکارپور کے علاقے لکھی در میں جمعے کی دوپہر کربلائے معلی نامی امام بارگاہ میں ایک دھماکہ ہوا تھا
پشاور میں بھی اس واقعے کے بعد احتجاجی جلوس نکالا گیا
،تصویر کا کیپشنپشاور میں بھی اس واقعے کے بعد احتجاجی جلوس نکالا گیا
دھماکے کے ہلاک شدگان کی اجتماعی نمازِ جنازہ سنیچر کی صبح لکھی در میں ادا کی گئی ہے جس میں مقامی آبادی کے علاوہ شیعہ تنظیموں کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی
،تصویر کا کیپشندھماکے کے ہلاک شدگان کی اجتماعی نمازِ جنازہ سنیچر کی صبح لکھی در میں ادا کی گئی ہے جس میں مقامی آبادی کے علاوہ شیعہ تنظیموں کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی
نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے شرکت کی
،تصویر کا کیپشننماز جنازہ میں بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے شرکت کی