شکار پور کی امام بارگاہ میں دھماکے سے ہونے والی والی تباہی تصاویر میں۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ سندھ کے حکام کے مطابق ضلع شکار پور کی امام بار گاہ میں دھماکے سے کم از کم 55 افراد ہلاک اور 59 زخمی ہوگئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیہ دھماکہ جمعے کو شکار پور کے علاقے لکھی در کی امام بارگاہ مولا علی میں ہوا۔
،تصویر کا کیپشنبی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت شہر کے مرکزی علاقے میں واقع امام بارگاہ اور مسجد کی دو منزلہ عمارت میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور نمازِ جمعہ کا خطبہ جاری تھا۔
،تصویر کا کیپشنشکار پور کے پولیس افیسر عبدالقدوس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں امام بارگاہ کے پیش امام سمیت کم از کم 44 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
،تصویر کا کیپشنڈی ایس پی عبدالقدوس کے مطابق جائے وقوعہ پر لوگوں نے انھیں بتایا کہ ایک شخص تھیلے سمیت امام بارگاہ کے اندر آیا، جس کے فوری بعد دھماکہ ہو گیا اور اب تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ بم نصب کیا گیا تھا یا یہ خودکش حملہ تھا۔
،تصویر کا کیپشنایس ایچ او بشیر کھوکھر کا کہنا ہے کہ دھماکے وقت امام بارگاہ میں سو کے قریب افراد نچلی منزل اور 60 سے 70 افراد پہلی منزل پر موجود تھے۔
،تصویر کا کیپشنایس ایچ او بشیر کھوکھر کے مطابق امام بارگاہ کے باہر سکیورٹی انتظامات پولیس کے پاس ہوتے ہیں جبکہ اندر کی سکیورٹی کی ذمہ داری امام بارگاہ کے عملے کے پاس ہوتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے تحریری بیان کے مطابق شکار پور دھماکے کے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے چار ایمبولینسیں اور آرمی ڈاکٹروں کی ٹیمیں پنوں عاقل چھاؤنی سے شکار پور کے لیے روانہ کر دی گئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشکار پور میں ماضی میں بھی فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں اور مئی 2013 میں یہاں ایک شیعہ رہنما کے ایک انتخابی قافلے پر خودکش حملہ ہوا تھا۔