شکارپور دھماکہ: سندھ میں سوگ اور احتجاجی مظاہرے

متعدد ہلاک شدگان کی اجتماعی نمازِ جنازہ سنیچر کی صبح لکھی در میں ادا کی گئی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمتعدد ہلاک شدگان کی اجتماعی نمازِ جنازہ سنیچر کی صبح لکھی در میں ادا کی گئی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر شکار پور کی ایک امام بارگاہ میں خودکش دھماکے سے 61 افراد کی ہلاکت پر سنیچر کو صوبے بھر میں سوگ منایا گیا اور ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

ہلاک شدگان کی اجتماعی نمازِ جنارہ ادا کی گئی جن میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

اس موقعہ پر صوبہ سندھ میں سرکاری طور پر ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا تھا جس کی وجہ سے شکار پور سمیت اندونِ سندھ کے کئی شہروں میں کاروبارِ زندگی معطل رہا۔

شکارپور کے علاقے لکھی در میں جمعے کی دوپہر کربلائے معلی نامی امام بارگاہ میں ایک دھماکہ جس کے بارے میں آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ خودکش حملہ تھا۔

<link type="page"><caption> شکارپور دھماکے کے بعد: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2015/01/150130_shikarpur_imambargah_pics_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> اندرونِ سندھ میں بڑھتی شدت پسندی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/04/130422_extemism_in_sindh_rk" platform="highweb"/></link>

آئی جی سندھ نے بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کی تحقیات کر رہے ہیں اور ابتدائی رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ آور کا سر اور جسم کے حصے ملے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حملہ خودکش تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق شکار پور پولیس کے اعلی حکام نے مقامی ایس ایچ او سمیت دو پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا جبکہ امام بارگاہ کی سکیورٹی پر مامور ایک اہلکار کو حراست میں بھی لیا گیا۔

دھماکے کے خلاف کراچی سمیت متعدد شہروں میں احتجاج ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندھماکے کے خلاف کراچی سمیت متعدد شہروں میں احتجاج ہوا ہے

دھماکے کے ہلاک شدگان کی اجتماعی نمازِ جنازہ سنیچر کی صبح لکھی در میں ہی ادا کی گئی جس میں مقامی آبادی کے علاوہ شیعہ تنظیموں کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جس کے بعد میتیں تدفین کے لیے روانہ کی گئیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سنیچر کو شکار پور کا دورہ کیا اور ہلاک شدگان کے لواحقین کے لیے 20، 20 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے دو، دو لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا۔

وزیرِ اعلیٰ نے پولیس حکام کو یہ ہدایت بھی کی کہ صوبے میں ہائی الرٹ کیا جائے کیونکہ شہروں میں گھیرا تنگ ہونے کے بعد دہشت گردوں نے چھوٹے شہروں اور قصبوں کا رخ کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سکھر کے کمشنر سعید احمد نے بتایا کہ خودکش حملہ آور ایک خاتون کے ہمراہ امام بارگاہ میں یہ کہہ کر داخل ہوا کہ وہ دم درود کے لیے آیا ہے اور پھر اس نے دھماکہ کر دیا۔

سعید احمد کے مطابق سپیشل برانچ کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملے میں پانچ کلو کے قریب دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

دھماکے سے قبل پولیس کے جائے وقوع پر موجود نہ ہونے کی تحقیقات جاری ہیں اور شکار پور کے ایس ایس پی نے ایس ایچ او لکھی در اور ہیڈ محرر کو معطل کر دیا جبکہ اس پولیس اہلکار کو حراست میں لے لیا گیا جس کی ڈیوٹی جمعے کو امام بارگاہ پر تھی۔

نمازِ جنارہ میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننمازِ جنارہ میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے

دھماکے کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والوں کو آئی ایس پی آر کے میجر جرنل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا جبکہ کچھ زخمیوں کو پنوں عاقل چھاؤنی منتقل کیا گیا۔

دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے 16 افراد کو سی 130 طیارے کے ذریعے کراچی لایا گیا جہاں وہ مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

شیعہ تنظیم مجلس وحدت المسلمین نے شکار پور دھماکے کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے جبکہ اس تنظیم کے علاوہ شیعہ علما کونسل کی اپیل پر سنیچر کو صوبے بھر میں ہڑتال کی گئی۔

اس کے علاوہ کراچی میں نمائش چورنگی، ملیر اور ابوالحسن اصفہانی روڈ پر جمعے کی شب سے ہی احتجاجی دھرنے دیے گئے۔

دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے 16 افراد کو سی 130 طیارے کے ذریعے کراچی لایا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشندھماکے میں شدید زخمی ہونے والے 16 افراد کو سی 130 طیارے کے ذریعے کراچی لایا گیا ہے

ہڑتال اور دھرنوں کی وجہ سے کراچی میں نظام زندگی متاثر ہوا جبکہ کراچی کے علاوہ لاڑکانہ، حیدرآباد سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں بھی سنیچر کو احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

اس کے علاوہ پشاور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے گئے۔

خیال رہے کہ شکار پور میں ماضی میں بھی فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں اور جنوری سنہ 2013 میں ہی شہر سے دس کلومیٹر دور واقع درگاہ غازی شاہ میں بم دھماکے میں گدی نشین سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سنہ 2010 میں بھی شکار پور میں عاشورۂ محرم کے موقع پر ایک مجلس پر حملے کی کوشش کے دوران ایک مشتبہ خودکش بمبار مارا گیا تھا۔

عالمی مذمت

شکار پور میں ہونے والے دھماکے کی عالمی سطح پر بھی مذمت کی گئی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے اور ہر قسم کی پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے پاکستان سے مزید تعاون کرنے کو تیار ہے۔