شکارپور کی امام بارگاہ میں دھماکہ، ہلاکتیں 57 ہوگئیں

حکام تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا بم نصب کیا گیا یا خودکش حملہ تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنحکام تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا بم نصب کیا گیا یا خودکش حملہ تھا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے حکام کے مطابق ضلع شکار پور کی امام بار گاہ میں دھماکے سے کم از کم 57 افراد ہلاک اور 57 زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ دھماکہ جمعے کو شکار پور کے علاقے لکھی در کی امام بارگاہ مولا علی میں ہوا ہے۔

<link type="page"><caption> اندرونِ سندھ میں بڑھتی شدت پسندی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/04/130422_extemism_in_sindh_rk" platform="highweb"/></link>

بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت شہر کے مرکزی علاقے میں واقع امام بارگاہ اور مسجد کی دو منزلہ عمارت میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور نمازِ جمعہ کا خطبہ جاری تھا۔

شکارپور کے پولیس افیسر عبدالقدوس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں امام بارگاہ کے پیش امام سمیت کم از کم 57 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 59 افراد زخمی ہیں۔ زخمی افراد اس وقت شکارپور، سکھر اور لاڑکانہ میں زیرعلاج ہیں۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

ڈی ایس پی عبدالقدوس کے مطابق جائے وقوعہ پر لوگوں نے انھیں بتایا کہ ایک شخص تھیلے سمیت امام بار گاہ کے اندر آیا، جس کے فوری بعد دھماکہ ہو گیا اور اب تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ بم نصب کیا گیا تھا یا یہ خودکش حملہ تھا۔

ایس ایچ او بشیر کھوکھر کا کہنا ہے کہ دھماکے وقت امام بارگاہ میں سو کے قریب افراد نچلی منزل اور 60 سے 70 افراد پہلی منزل پر موجود تھے۔

شدید زخمیوں کو لاڑکانہ اور سکھر کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے
،تصویر کا کیپشنشدید زخمیوں کو لاڑکانہ اور سکھر کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے

انھوں نے بتایا کہ پہلی منزل کے لیے جانے والی سیڑھیوں کے قریب زیادہ نقصان ہوا ہے۔

ایس ایچ او بشیر کھوکھر کے مطابق امام بارگاہ کے باہر سکیورٹی انتظامات پولیس کے پاس ہوتے ہیں جبکہ اندر کی سکیورٹی کی ذمہ داری امام بارگاہ کے عملے کے پاس ہوتی ہے۔

صوبائی وزیرِ صحت جام ڈہر کا کہنا تھا کہ شدید زخمیوں کو لاڑکانہ اور سکھر کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ڈی آئی جی سائیں رکھیو میرانی کے مطابق امام بارہ گاہ کے باہر سکیورٹی انتظامات نہ ہونے کی اطلاعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ایس پی شکار پور ثاقب اسماعیل کا کہنا ہے کہ تاحال دھماکے کی نوعیت معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

نجی چینل آج ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امام بار گاہ پر حملے کے حوالے سے کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی اور وہاں معمول کی سکیورٹی کی ذمہ داری پولیس کو دی گئی تھی۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے تحریری بیان کے مطابق شکار پور دھماکے کے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے چار ایمبولینسیں اور آرمی ڈاکٹروں کی ٹیمیں پنوں عاقل چھاؤنی سے شکار پور کے لیے روانہ کر دی گئی ہیں۔

سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد امدادی کارکن جائے وقوع پر پہنچ گئے جبکہ ہسپتالوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بھی زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا
،تصویر کا کیپشندھماکے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بھی زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں بھی لے لیا ہے۔

پی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔

شکار پور میں ماضی میں بھی فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں اور مئی 2013 میں یہاں ایک شیعہ رہنما کے ایک انتخابی قافلے پر خودکش حملہ ہوا تھا۔

اس سے قبل جنوری 2013 میں ہی شکارپور شہر سے دس کلومیٹر دور واقع درگاہ غازی شاہ میں بم دھماکے میں گدی نشین سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

2010 میں بھی شکار پور میں عاشورۂ محرم کے موقع پر ایک مجلس پر حملے کی کوشش کے دوران ایک مشتبہ خودکش بمبار ہلاک ہوا تھا۔