لاش کی شناخت نہ ہونے پر خودسوزی کی کوشش

بس اور آئل ٹینکر کے تصادم میں 63 افراد مسافروں سمیت اتوار کو اس حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبس اور آئل ٹینکر کے تصادم میں 63 افراد مسافروں سمیت اتوار کو اس حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی کے قریب بس اور آئل ٹینکر میں تصادم کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کی شناخت میں دشواری کے باعث لواحقین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتے ہوئے نظر آتا ہے، ایک مزدور نے بھائی کی شناخت نہ ہونے اور انتظامیہ کے مبینہ رویے کے باعث خود سوزی کی کوشش کی ہے۔

ہدایت اللہ کے نوجوان بھائی عظمت اللہ دیگر 63 افراد مسافروں سمیت اتوار کو اس حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ عظمت اللہ میڈیکل کمپنی میں ملازم تھے اور کراچی سے اپنے گاؤں شاہ پور جہانیاں جا رہے تھے کہ حادثے کا شکار ہوگئے۔

ہدایت اللہ شاہپور جہانیاں سے بھائی کی لاش وصول کرنے کراچی پہنچے ، انھوں نے پیر کو سہراب گوٹھ پر واقع ایدھی سرد خانے پہنچ کر خود پر مٹی کا ڈال کر خود سوزی کی کوشش کی، لوگوں نے انہیں بچا لیا اور وہ معمولی زخمی ہوگئے۔

جناح ہسپتال میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ہدایت اللہ نے بتایا کہ وہ اتوار کی دوپہر تین بجے سے ہپستالوں کے چکر لگا رہے ہیں لیکن کوئی بھی ان کی مدد نہیں کر رہا ہے، بقول ان کے وہ جناح ہپستال پہنچے تو انہیں سول ہپستال جانے کو کہا گیا اور جب سول ہپستال پہنچے تو انہیں سہراب گوٹھ ایدھی سینٹر کی راہ دکھائی گئی۔

’ایدھی سرد خانے میں لاشیں دیکھیں تو صرف گوشت کے جلے ہوئے ٹکڑے تھے، حکام نے کہا کہ بغیر تصدیق اور سرکاری اجازت نامے کے کوئی لاش حوالے نہیں کی جاسکتی ، آخر تنگ آکر دل بھر آیا اور مٹی کا تیل لیکر خود پر چھڑکر آگ لگا دی۔‘

ہدایت اللہ کا کہنا تھا کہ ’اگر فائر برگیڈ پہنچ جاتی تو کم سے کم لاشیں اس حالت میں ہوتیں کہ وہ ان کی شناخت کرسکتے تھے ، وہ چاہتے ہیں کہ اسٹیل ملز انتظامیہ کے اس رویے کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ انھوں نے فائر برگیڈ کی گاڑیاں کیوں نہیں بھیجیں۔‘

جناح ہپستال میں ہلاک ہونے والے مسافروں کے لواحقین کے نمونے حاصل کیے جا رہے ہیں، ایم ایل او ڈاکٹر کلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے ابھی تک 50 سے زائد نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں جو اسلام آباد بھیجے جائیں گے اور وہاں سے رپورٹ آنے میں بارہ سے پندرہ روز لگ سکتے ہیں۔

کراچی کی کسی سرکاری ہپستال یا لیبارٹری میں ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت دستیاب نہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکراچی کی کسی سرکاری ہپستال یا لیبارٹری میں ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت دستیاب نہیں

یاد رہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی کسی سرکاری ہپستال یا لیبارٹری میں ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت دستیاب نہیں، اس سے پہلے بلدیہ فیکٹری اور ایئرپورٹ پر حملے اور آتشزدگی میں ہلاک ہونے والے افراد کے بھی نمونے اسلام آباد لیبارٹری بھیجے گئے تھے۔

دوسری جانب کراچی پولیس نے حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرلی ہے جس میں حادثے کا ذمہ دار آئل ٹینکر ڈرائیور کو قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹینکر قانون کی خلاف ورزی کرتا ہوا روڈ کی مخالف سمت سے آرہا تھا، جس وجہ سے حادثہ پیش آیا۔

دریں اثنا صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ممتاز جکھرانی نے انٹر سٹی بسوں میں ایمرجنسی گیٹ کو لازمی قرار دیا ہے، ایک اعلامیے میں صوبائی وزیر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر 30 روز کے اندر یہ گیٹ نصب نہ کیے گئے تو بسوں کو چالان کے علاوہ ان کے روٹ پرمٹ بھی منسوخ کیا جائیں گے۔