مظفرآباد: کشمیر میں بارشوں سے 48 ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, تابندہ کوکب گیلانی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں تیز بارشوں کے باعث پہاڑی تودے گرنے اور دوسرے حادثات کے نتیجے میں سنیچر کی رات تک ہلاکتوں کی تعداد 48 ہو گئی جبکہ 1500 سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
مظفر آباد سے سٹیٹ ڈیزاسٹر مینیجمٹ اتھارٹی کے مطابق 87 افراد زخمی ہیں اور 2100 سے زائد مکانات کو جزوی نقصان پہنچا اس کے علاوہ650 مویشی ہلاک ہوئے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سبھی دریاؤں میں طغیانی کے باعث کئی دیہات سیلاب کے خطرے سے دوچار ہوئے، دریائے پونچھ، جہلم اور نیلم میں پانی کی سطح سنہ 1992 کے سیلاب کے بعد بلند ترین سطح پر تھی۔
بارشوں اور سیلاب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں باغ، حویلی، راولاکوٹ، کوٹلی اور ہجیرہ شامل ہیں۔
دریاؤں میں پانی کی بلند سطح کے باعث دو پلوں کو نقصان پنہچا اور دو پل جن میں سے ایک مظفرآباد جبکہ دوسرا تتہ پانی میں واقع تھا مکمل طور پر تباہ ہو گئے

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقوں میں 2005 کے زلزلے کے بعد پہاڑی علاقوں میں پہاڑی تودے گرنے کے واقعات میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ بارشوں میں دور دارز علاقوں سے مٹی کے تودے سرکنے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں جن کے بارے میں مقامی حکام تفیصلات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان پہاڑی علاقوں سے کسی قسم کے نقصان کی خبر کی تصدیق ہونے میں ایک دو دن کا وقت لگ سکتا ہے۔
لینڈ سلائیڈ سے دارالحکومت مظفرآباد سمیت کئی علاقوں کا دیگر علاقوں سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا تھا۔ تاہم مظفرآباد کے لیے راولپنڈی کوہالہ روز اور ایبٹ آباد روڈ سنیچر کو کھول دی گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بارشوں سے مظفرآباد سری نگر روڈ بھی متاثر ہوئی جو کچھا کے مقام پر ڈیڑھ کلو میٹر تک مکمل طور پر دیار برد ہو گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایس ڈی ایم اے کے علاوہ محکمۂ صحت کے حکام جبکہ نجی تنظیموں میں پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی اور المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
ایس ڈی ایم اے کے حکام نے راولاکوٹ اور کوٹلی میں 700 خاندانوں کے لیے امدادی سامان ضلعی حکومتوں کے حوالے کر دیا ہے۔
پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے 35000 افراد کے لیے امدادی سامان حکام کے حوالے کیا ہے۔
پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے مقامی عہدیدار کا کہنا ہے کہ پہلے ذمہ داری ایس ڈی ایم اے کی ہے تاہم ان کا ادارہ ہر قسم کے نقصان کا دس فیصد خرچ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق سیلابی ریلوں کی وجہ نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ کو 3 ارب کا نقصان ہنچا۔ دریام کے کناری نصاب کئی مشینیں پانی میں بہہ گئی ہیں۔







