جسٹس سردار رضا چیف الیکشن کمشنر مقرر

،تصویر کا ذریعہUNKNOWN
سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج سردار محمد رضا خان کو ملک کا نیا چیف الیکشن کمشنر مقرر کر دیا گیا ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق صدرِ مملکت نے وزیرِ اعظم پاکستان کی ایڈوائس پر جمعرات کی شام ان کی تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔
اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رفیق رجوانہ نے کمیٹی کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کمیٹی نے حکومت اور حزب مخِالف کی جماعتوں کی طرف سے بھجوائے گئے تین ناموں پر غور کیا اور بعدازاں جسٹس ریٹائرڈ سردار محمد رضا خان کے نام پر اتفاق کیا گیا۔
اُنھوں نے کہا کہ سردار رضا خان کا نام پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر اسلام الدین شیخ نے تجویز کیا تھا، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی عدیل نے اس نام کی توثیق کی تھی۔
اُنھوں نے کہا کہ کمیٹی کے کسی بھی رکن نے سردار رضا کے نام کی مخالفت نہیں کی، جس کے بعد سردار رضا خان کو متفقہ طور پر ملک کا نیا چیف الیکشن کمشنر مقرر کر دیا گیا۔
پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن نے شرکت نہیں کی۔
نامزد ہونے والے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ایبٹ آباد سے ہے۔ وہ سنہ 1945 میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم خیبر پختونخوا سے ہی حاصل کی اور پھر اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔
سردار رضا خان سنہ 1976 میں سول جج اور سینئیر سول جج کے عہدے پر فائز رہے اور بعدازاں اُنھیں ایڈیشنل سیشن جج کے عہدے پر ترقی دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سردار رضا خان کو سنہ 1993 میں پشاور ہائی کورٹ کا ایڈشنل جج تعینات کیا گیا جبکہ سنہ 2000 میں اُنھیں پشاور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔
جسٹس رضا پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس ناصر الملک اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے اُن ججوں میں شامل تھے جنھوں نے 26 جنوری سنہ 2000 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے پہلے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف لیا تھا۔
جسٹس سردار رضا خان کو سنہ 2002 میں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے تین نومبر سنہ 2007 میں ملک میں سپریم کورٹ کے دوسرے ججوں کے ہمراہ انھیں بھی ایمرجنسی کے دوران گھروں میں نظر بند کردیا تھا، تاہم اُنھوں نے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے دور 19 ستمبر 2008 میں دوبارہ اپنے عہدے کا حلف اُٹھا لیا تھا۔
جسٹس سردار رضا خان سنہ 2010 میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ اس عرصے کے دوران اُنھیں سپریم کورٹ کی طرف سے مختلف امور کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن کی سربراہی کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئی تھیں۔
جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کو اس سال جون میں فیڈرل شریعت کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن کے سربراہ کی ذمہ داریاں بھی ادا کرتے رہے ہیں۔







