الیکشن کمشنر مستعفی ہو جائیں: عمران خان

عمران خان کا دعویٰ ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے تحقیقاتی کمشن کے سامنے اہم ثبوت پیش کریں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعمران خان کا دعویٰ ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے تحقیقاتی کمشن کے سامنے اہم ثبوت پیش کریں گے

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 2013 کے انتخابات کی آزادانہ تحقیقات کے لیے الیکشن کمشنروں کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے میڈیا سیل کی جانب سے بدھ کو جاری کیے جانے والے تحریری بیان کے مطابق 2013 کے عام انتخابات میں اضافی بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے معاملے پر حکومت اور الیکشن کمیشن کے بیانات میں تضاد ہے، اور پی ٹی آئی اہم معلومات سپریم کورٹ کے تحقیقاتی کمشن کے سامنے پیش کرے گی۔

’پی ٹی آئی الیکشن کمشن کی جانب سے اضافی بیلٹ پیپرز کی چھپائی سمیت متعدد معاملات پر پردہ ڈالنے کی مذمت کرتی ہے جو عمران خان کی جانب سے 28 نومبر کی پریس کانفرنس میں سامنے لائے گئے۔‘

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ 18 اگست کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ’کل 18 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے تھے۔‘

تحریک انصاف کے مطابق 28 نومبر کو عمران خان نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ اضافی بیلٹ پیپرز کی تعداد 53 لاکھ تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسی تاریخ کو الیکشن کمشن نےمیڈیا بیان جاری کیا تھا کہ ’صرف آٹھ لاکھ اضافی بیلٹ پیپر چھاپے گئے تھے۔‘

پی ٹی آئی کے تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمشن نے اپنے سابقہ بیان کی تردید یکم دسمبر کو کر دی اور کہا کہ دراصل ’93 لاکھ اضافی بیلٹ پیپرز چھاپے گئے تھے۔‘

پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ ہمارے پاس اس سے کہیں زیادہ معلومات ہیں اور وہ الیکشن کمشن کی خبروں کو غلط ثابت کرے گی، مگر انھیں 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے تمام امور پر متعلقہ حوالوں کے ساتھ سپریم کورٹ کی جانب سے بنائے جانے والے تحقیقاتی کمشن کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

عمران خان نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ کہیں بیلٹ پیپرز سے متعلق چھاپہ خانوں اور الیکشن کمشن کے پاس موجود ریکارڈ قبضے میں نہ لے لیا جائے۔

تحریک انصاف کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام متعلقہ ریکارڈ ان چھاپہ خانوں کے پاس پڑا ہوا ہے، جہاں بیلٹ پیپرز کی چھپائی ہوئی۔ اس کا کہنا ہے کہ الیکشن کمشن انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی میں فریق ہے۔

صاف اور شفاف تحقیقات کے لیےالیکشن کمشنروں سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے علاوہ تحریک انصاف کے سربراہ نے تمام حلقوں میں تقسیم ہونے والے اضافی بیلٹ پیپرز کی تعداد کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ انتخابی حلقوں میں تقسیم ہونے والے اضافی بیلٹ پیپرز کی تعداد 69 سے ایک لاکھ 28 ہزار کے قریب ہے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ نے آٹھ دسمبر سے مختلف شہروں کو بند کرنے کی کال دے رکھی ہے، تاہم ان کے نائب شاہ محمود قریشی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر حکومت نے چھ دسمبر کو مذاکرات کا آغاز کر دیا تو وہ عمران خان سے آٹھ دسمبر کو فیصل آباد بند کرنے کی کال واپس لینے کی درخواست کر سکتے ہیں۔