عمران کا ’پلان سی‘: 16 دسمبر کو پاکستان ’بند‘ کرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ ہونے کے خلاف احتجاجاً 16 دسمبر کو پورا پاکستان ’بند‘ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اتوار کو اسلام آباد میں ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کا یہ سلسلہ چار دسمبر کو لاہور سے شروع ہوگا اور اس کے بعد آٹھ دسمبر کو فیصل آباد اور 12 دسمبر کو کراچی’بند‘ ہوگا۔
انھوں نے وزیرِ اعظم نواز شریف کو خبردار کیا کہ اگر اس کے باوجود حکومت نے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات نہ کروائیں تو پھر وہ ’پلان ڈی‘ پیش کریں گے جسے برداشت کرنے کی سکت شاید حکمراں جماعت میں نہیں ہوگی۔
عمران خان نے کہا کہ تمام جماعتوں نے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگائے لیکن تحقیقات کے لیے تحریک انصاف ہی نکلی اور اُن کی جماعت نے انصاف کے تمام دروازے کھٹکٹائے لیکن اُنھیں انصاف نہیں ملا۔
اُنھوں نے اپنے پرانے الزام کو پھر دہرایا کہ دھاندلی میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور سابق جج خلیل الرحمن رمدے ملوث تھے۔
عمران خان نے حکومت کو پیشکش کی کہ وہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات سے متعلق عدالتی کمیشن بنانے کے لیے اُن کی جماعت سے مذاکرات کریں اور ’یہ مذاکرات وہیں سے شروع ہوں گے جہاں سے ان مذاکرات میں تعطل آیا تھا۔‘
اُنھوں نے کہا کہ سنہ 2015 نئے پاکستان کا سال ہوگا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمران فلاح و بہبود کے کام کرنے کی بجائے اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت کی جانب سے مختلف ٹی وی چینلوں پر اپنی ذات اور جماعت مخالف اشتہارات کے حوالے سے عمران نے کہا کہ ٹی وی پر یہ اشتہار عوامی پیسے سے چل رہے ہیں اور وہ ان اشتہارات کے خلاف عدالت جائیں گے۔
اس سے قبل جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تقریروں کا وقت ختم اور فیصلوں کا وقت آگیا ہے اور یہ فیصلے عوام نے کرنے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کے 109 دن میں عمران خان کی قیادت نے ثابت کر دیا کہ یہ تبدیلی ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان نے جس تاریخ کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔
16 دسمبر سنہ 1971 کو مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا تھا۔
یاد رہے کہ عمران خان نے اس سے پہلے بھی سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اسے عوام اور خود اُن کی جماعت کی طرف سے بھی اس اعلان کو پذیرائی نہیں ملی تھی۔







