چیف الیکشن کمشنر کے لیے تین ناموں پر اتفاق ہوگیا

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی سے ان ناموں پر مشاورت ہوئی ہے: اسحٰق ڈار

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی سے ان ناموں پر مشاورت ہوئی ہے: اسحٰق ڈار

پاکستان الیکشن کمیشن کے سربراہ کی تقرری کے لیے حکومت اور قائد حزب اختلاف نے پارلیمانی کمیٹی کو تین سابق ججوں کے نام تجویز کر دیے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے بدھ کی صبح اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس (ر) سردار رضا، جسٹس (ر) طارق پرویز اور جسٹس (ر) تنویر احمد خان کے نام سپیکر کو بھجوا دیے گئے ہیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق سپیکر نے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کی صبح طلب کر لیا ہے اور وہ یہ تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجیں گے جن پر غور کیا جائے گا۔

اسحاق ڈار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں سے ان ناموں پر مشاورت کی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے ناموں کے بارے میں مشاورت کرنے کے عمل کا خیرمقدم کیا۔

اُدھر چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رفیق رجوانہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ چار دسمبر کو پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں کسی ایک نام پر اتفاق کر لیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر کثرت رائے جس نام پر اتفاق ہوا تو اس کا بطور چیف الیکشن کمشنر اعلان کر دیا جائے گا۔

اُنھوں نے بتایا کہ اس پارلیمانی کمیٹی میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی بھی شامل ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 2013 کے انتخابات کی آزادانہ تحقیقات کے لیے الیکشن کمشنروں کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ گذشتہ 16 ماہ سے خالی پڑا ہے اور اس عرصے کے دوران سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

13 نومبر کو سپریم کورٹ نے اس عہدے کو پُر کرنے کے لیے اپنی ڈیڈ لائن میں توسیع کرتے ہوئے حکومت سے کہا تھا کہ 24 نومبر تک چیف الیکشن کمشنر مقرر نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنا جج واپس بلا لے گی۔

24 نومبر کو سپریم کورٹ نے حکومت کو پانچ دسمبر تک کی حتمی مہلت دی تھی اور اس تاریخ کو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے جج کی خدمات واپس لینے کا حکم بھی دیا تھا۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی سربراہی کے لیے وزیر اعظم نواز شریف اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے درمیان دو ریٹائرڈ ججوں کے ناموں پر اتفاق ہو گیا تھا مگر اُن دونوں سابق ججوں، تصدق حسین جیلانی اور رانا بھگوان داس نے یہ عہدہ سنبھالنے سے معذرت کر لی تھی۔

جسٹس سردار رضا خان اِس وقت فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہUNKNOWN

،تصویر کا کیپشنجسٹس سردار رضا خان اِس وقت فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں

حکومت اور اپوزیشن نے اتفاقِ رائے سے جن تین ناموں کی منظوری دی ہے ان میں سےجسٹس سردار رضا خان اِس وقت فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں جبکہ اس سے پہلے وہ سپریم کورٹ کے جج اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے ہیں۔

وہ سپریم کورٹ کےاُن ججوں میں شامل تھے جنھیں سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے تین نومبر سنہ 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے دوران گھروں میں نظر بند کر دیا تھا۔

تاہم اُنھوں نے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے دور میں دوبارہ اپنے عہدے کا حلف اُٹھا لیا تھا جبکہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری 16 مارچ کو ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے بحال ہوئے تھے۔

اس فہرست میں دوسرا نام جسٹس ریٹائرڈ طارق پرویز کا ہے۔ وہ بھی پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔

انھیں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بحالی کے بعد سپریم کورٹ میں لے کر آئے تھے۔

جسٹس ریٹائرڈ طارق پرویز بھی پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہGEO TV

،تصویر کا کیپشنجسٹس ریٹائرڈ طارق پرویز بھی پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں

جسٹس طارق پرویز بھی اعلیٰ عدلیہ کے اُن ججوں میں شامل تھے جنھیں پرویز مشرف کے دور میں نوکریوں سے فارغ کرکے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔

تاہم اُنھوں نے بھی افتخار محمد چوہدری کی بحالی سے پہلے اپنے عہدے کا حلف اُٹھا لیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے تیسرے امیدوار جسٹس ریٹائرڈ تنویر احمد خان سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں 2000 سے 2004 تک سپریم کورٹ کے جج رہے ہیں۔

وہ 2004 سے 2007 تک نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ وہ 2008 سے 2013 تک پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے ہیں۔