’الیکشن کمشنر کی تقرری 24 نومبر سے پہلے ہو جائے گی‘

سپریم کورٹ نے حکومت کو چیف الیکشن کمشنر تعینات کرنے کے لیے 24 نومبر کی حتمی مہلت دے رکھی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے حکومت کو چیف الیکشن کمشنر تعینات کرنے کے لیے 24 نومبر کی حتمی مہلت دے رکھی ہے
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی 24 نومبر کی ڈیڈ لائن سے پہلے عمل میں لائی جائے گی اور بیرون ملک ہونے کے باوجود قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ حکومت کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطے میں ہیں۔

قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ ترجمان سید وقار گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ سید خورشید شاہ اپنی اہلیہ کے علاج کے سلسلے میں آئرلینڈ گئے ہوئے تھے اور جمعرات کو ہی استنبول پہنچے ہیں مگر وہ ٹیلی فون پر وزیر اعظم نواز شریف سے رابطے میں ہیں اور یہ معاملہ ایک دو دن میں طے پا جائے گا۔

’نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے جو ڈیڈ لائن دی ہے، اس سے پہلے ہی ہوگا اور اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم کے درمیان ٹیلی فون پر براہ راست بات چیت ہو رہی ہے اور کچھ بات چیت وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ذریعے بھی ہو رہی ہے۔ امید یہی ہے کہ یہ کل یا پرسوں تک فائنل ہو جائے گا۔‘

چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ پچھلے 16 ماہ سے خالی پڑا ہے اور اس عرصے کے دوران سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے اس عہدے کو پُر کرنے کے لیے 13 نومبر کو اپنی ڈیڈ لائن میں توسیع کرتے ہوئے حکومت سے کہا تھا کہ 24 نومبر تک چیف الیکشن کمشنر مقرر نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنا جج واپس بلا لے گی۔

18ویں ترمیم کے بعد آئین میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے وضع کیا گیا طریقہ وسیع تر مشاورت پر زور دیتا ہے اور اس میں یہ بھی قید ہے کہ صرف سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہی اس عہدے کے لیے نامزد کیے جا سکتے ہیں۔

آئین کے تحت وزیراعظم قائد حزب اختلاف کے اتفاق رائے سے تین امیدواروں کے نام حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتے ہیں اور پھر کمیٹی ان میں سے کسی ایک کو اس عہدے کے لیے چُنتی ہے جس کا پھر صدر مملکت تقرر کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے درمیان تین ریٹائرڈ ججوں کے ناموں پر اتفاق ہوگیا تھا مگر اُن میں سے دو ججوں تصدق حسین جیلانی اور رانا بھگوان داس نے معذرت کر لی جس کی بنا پر حکومت اور حزب اختلاف اب مزید دو متفقہ ناموں کی تلاش میں ہے۔

وقار گیلانی نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجنے کے لیے ریٹائرڈ جسٹس طارق پرویز کے ساتھ نئے نام بھی سامنے آ سکتے ہیں مگر جن ناموں پر غور ہوا ہے اس کا علم فی الوقت وزیر اعظم اور سید خورشید احمد شاہ کو ہے۔

خورشید شاہ بیرون ملک ہیں اور ان کے ترجمان کے مطابق اُن کی واپسی 26 نومبر کو متوقع ہے جبکہ وزیراعظم نواز شریف کو سارک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے 25 نومبر کو نیپال چلے جانا ہے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے اس تقرری کے لیے حکومت کو 28 اکتوبر اور 13 نومبر تک کا وقت دیا تھا۔ اس کے بعد عدالت نے حکومت کو 24 نومبر کی حتمی مہلت دی تھی اور اب حکومت اور حزب اختلاف پر سپریم کورٹ کے ایک اور حکم کی تلوار سر پر لٹک رہی ہے۔

سابق جج اور صدارتی انتخاب میں عمران خان کی تحریک انصاف کے امیدوار جسٹس وجیہ الدین کہتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں حکومت اسے جلد از جلد پُر کرنے کی پابند ہے مگر کوئی ایسا قانونی ضابطہ نہیں جو کہتا ہو کہ یہ کام مخصوص مدت میں ہو جانا چاہیے۔

’ان میں مدت تو واضح طریقے سے نہیں بتائی گئی ہیں مگر اگر عدالتیں کسی آئینی عمل کے متعلق کوئی وقت دے دیتی ہیں تو اس کی تعمیل نہ ہونے پر کم سے کم توہین عدالت کی سزا تو ہو سکتی ہے، جیسے کہ یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ہوا تھا۔‘

حکومت کو بھی شاید اس خطرے کا اندازہ ہے خاص طور پر ایسے وقت جبکہ پچھلے کئی ماہ سے عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنوں اور جلسوں کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھا رہے ہیں اور 2013 کے عام انتخابات کے ساتھ ساتھ پورے پارلیمانی نظام کو ہی چیلنج کر رہے ہیں۔