نئے چیف الیکشن کمشنر کے لیے مشاورت تیز

تحریک انصاف اور عوامی تحریک ملک میں گذشتہ عام انتخابات کی صحت کے بارے میں سنگین اعتراضات اٹھا رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنتحریک انصاف اور عوامی تحریک ملک میں گذشتہ عام انتخابات کی صحت کے بارے میں سنگین اعتراضات اٹھا رہی ہیں
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے انتخابی کمیشن کے نئے سربراہ یعنی چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے لیے حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سلسلے میں کئی نام گردش میں ہیں جبکہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد کے نام کی تجویز دی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت اور حزب اختلاف پر نئے انتخابی کمشنر کی 13 نومبر تک تعیناتی میں چند دن رہ جانے کی وجہ سے سیاسی رابطوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

یہ مشاورت ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب تحریک انصاف اور عوامی تحریک ملک میں گذشتہ عام انتخابات کی صحت کے بارے میں سنگین اعتراضات اٹھا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئے چیف الیکشن کمشنر کا انتخاب معمول سے زیادہ اہمیت حاصل کر گیا ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما سید خورشید شاہ نے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جمعے کو انھوں نے تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اور حکومت کے ساتھ طے پا جانے والے تین ناموں کے بارے میں ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے بھی جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد کا نام دیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ موجودہ انتخابی کمیشن ناکام ہو چکا ہے۔ انھوں نے نام نہ لیتے ہوئے گردش میں چند ناموں کی پر اپنے اعتراضات واضح کر دیے۔

ادھر جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے بھی جمعے کو ایک اخباری کانفرنس میں جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد کے نام کی تجویز دی ہے۔ خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ وہ اب یہ نام وزیر اعظم کے پاس مزید مشاورت کے لیے لے کر جائیں گے۔