ریٹرننگ افسران پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں: الیکشن کمیشن

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے اردو بازار سے کسی نجی پرنٹنگ پریس سے بیلٹ پیپر چھپوانے کے الزامات کی سختی تردید کی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسیکریٹری الیکشن کمیشن نے اردو بازار سے کسی نجی پرنٹنگ پریس سے بیلٹ پیپر چھپوانے کے الزامات کی سختی تردید کی
    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان الیکشن کمیشن کے سیکریٹری اشتیاق احمد خان نے کہا ہے کہ گذشتہ سال کے عام انتخابات کے لیے چھاپےگئے تین کروڑ سے زیادہ غیراستعمال شدہ بیلٹ پیپروں کا ریکارڈ انتخابی کمیشن کے پاس موجود نہیں ہے۔

یہ بات انھوں نے پیر کو انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔

اجلاس کو بریفنگ میں اشتیاق احمد خان نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کو ریٹرننگ افسران پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں ہے۔

انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پیپلزپارٹی، عوامی مسلم لیگ، پشتونخواملی عوامی پارٹی، مسلم لیگ نواز اور جمعیت علما اسلام کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔

کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری الیکش کمیشن اشتیاق احمد خان نے بتایا کہ گذشتہ سال عام انتخابات میں قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لیے کمیشن نےساڑھے آٹھ کروڑ ووٹروں کے لیے گیارہ کروڑ سے زیادہ بیلٹ پیپرز اسلام آباد، لاہور اور کراچی کی سرکاری پرنٹنگ پریس میں فوج کی نگرانی میں چھاپے گئےتھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریٹرننگ افسران صرف استعمال شدہ بیلٹ پیپرز کمیشن کو ارسال کرتے ہیں جبکہ غیراستعمال شدہ بیلٹ پیپرز ہر انتخابی حلقے کے مقامی خزانے یا تحصیلدار کے دفاتر میں جمع کروا دیتے ہیں۔

اشتیاق احمد خان نے کہا کہ اس طرح غیراستعمال شدہ بیلٹ پیپرز کا ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس موجود نہیں ہے۔

انھوں نے اردو بازار سے کسی نجی پرنٹنگ پریس سے بیلٹ پیپر چھپوانے کے الزامات کی سختی سے تردید کی۔

انھوں نے انکشاف کیا کہ انتخابات سے قبل بیلٹ پیپرز پر سیریل نمبر لگانے کے لیے 34 ٹیکنکل افراد کو باہر سے عارضی بنیادوں پر اسلام آباد گورنمنٹ پرنٹنگ پریس میں تعینات کیےگئے تھے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے جب سیکریٹری الیکشن کمیشن سے ان 34 افراد کی تفصیلات طلب کیں تو وہ خاطرخواہ جواب نہ دے سکے۔

شئح رشید نے جواب نہ ملنے پر کہا کہ ’آج کے اجلاس کے بعد ملک میں گذشتہ سال ہونے والے عام انتخابات کی کوئی قانونی اہمیت اور جواز نہیں رہا بلکہ ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ کیونکہ تین کروڑ بیلٹ پیپروں کاکوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے۔‘

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ’گذشتہ انتخابات میں ٹیکنیکل انداز سے دھاندلی ہوئی ہے۔ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلی کے850 نشستیں ہیں جن کے خلاف 400 عذرداریاں الیکشن ٹریبونل میں جمع ہوچکی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جن لوگوں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا اس میں 50 فیصد امیدوار انتخابی نتائج سےناخوش ہیں۔ اس کےعلاوہ انتخابی نتائج کے لیے فارم 14 اور 15 الیکشن کمیشن نہیں آتے ہیں۔ البتہ ان فارمز کی بنیاد پر ریٹرننگ افسران فارم 16 پرنتیجہ بنا کرکمیشن کو بجھوا دیتا ہے جس کے باعث اصل نتیجہ واضح نہیں ہو رہا ہے۔‘

ان اعتراضات کے باوجود سیکرٹری الیکشن کمیشن اشیاق احمد کا موقف تھا کہ ان تمام کمزوریوں کے باوجود عالمی برادری نے 2013 کے عام انتخابات کو شفاف قرار دیا تھا جس پر ساڑھے چار ارب روپے خرچ ہوئے تھے۔ اس میں سے ایک ارب37 کروڑ روپے انتخابی عملے اور ایک ارب 70 کروڑ روپے بیلٹ پیپروں کی چھپائی پر صرف ہوئےتھے۔