سپریم کورٹ کا قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی خدمات واپس لینے کا حکم

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ نے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی خدمات واپس لے لی ہیں اور یہ عدالتی حکم پانچ دسمبر سے موثر ہوں گے۔
سپریم کورٹ کے تعلقات عامہ کے اہلکار شاہد کمبوہ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چیف جسٹس ناصر الملک نے سپریم کورٹ کے جج کی خدمات واپس لینے کا حکم دیا ہے اور اس ضمن میں سیکرٹری الیکشن کمیشن کو آگاہ کردیا گیا ہے۔
اس سے پہلے سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے وفاقی حکومت کو مزید وقت دینے سے انکار کیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں وزیرِ اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کو نوٹس جاری کیے جائیں گے۔
عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ آج ہی سپریم کورٹ کے جج جسٹس انور ظہیر جمالی کی بطور قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا حکم واپس لے لیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے اس سلسلے میں دی گئی حتمی مہلت پیر کو ختم ہوئی ہے اور یہ تیسرا موقع تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے عدالتِ عظمیٰ نے حکومت کو مہلت دی تھی۔
پاکستان میں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ گذشتہ 16 ماہ سے خالی پڑا ہے اور اس عرصے کے دوران سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
13 نومبر کو سپریم کورٹ نے اس عہدے کو پُر کرنے کے لیے اپنی ڈیڈ لائن میں توسیع کرتے ہوئے حکومت سے کہا تھا کہ 24 نومبر تک چیف الیکشن کمشنر مقرر نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنا جج واپس بلا لے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیر کو اس معاملے کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ علاج کی غرض سے ملک سے باہر ہیں اس لیے چیف الیکشن کمشنر کے نام کو حتمی شکل نہیں جا سکی۔
اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے نام پر قائد حزب اختلاف سے ٹیلی فون پر بھی مشاورت ہو سکتی تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف ملک میں واپس آئیں گے تو پھر وزیر اعظم غیر ملکی دورے پر چلے جائیں گے اور یہ معاملہ اسی طرح طول پکڑتا جائے گا۔
اُنھوں نے کہا تھا کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت اس ضمن میں وزیر اعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کو نوٹس جاری کرے گی۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ حکومت عدالتی احکامات پر عمل درآمد پر یقین رکھتی ہے اور اس ضمن میں مخلصانہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اس پر بینچ میں موجود جسٹس گلزار احمد نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا تھا کہ کیا وہ عدالت میں ایسے کوئی شواہد پیش کر سکتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہو کہ حکومت عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔
اُنھوں نے کہا تھا کہ ایسی صورت حال میں تو وفاقی حکومت کو ایک گھنٹے کی مہلت بھی نہیں دے سکتے۔
اٹارنی جنرل نے پاکستان تحریک انصاف کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ ایک سیاسی جماعت نے جلسوں میں حکومت کی طرف چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے دیے گئے ناموں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد اُن شخصیات نے یہ عہدہ قبول کرنے سے معذرت کر لی تھی۔
عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت یکم دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی سربراہی کے لیے وزیر اعظم نواز شریف اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے درمیان دو ریٹائرڈ ججوں کے ناموں پر اتفاق ہوا تھا مگر اُن دونوں سابق ججوں تصدق حسین جیلانی اور رانا بھگوان داس نے یہ عہدہ سنبھالنے سے معذرت کر لی تھی۔
18ویں ترمیم کے بعد آئین میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے وضع کیا گیا طریقہ وسیع تر مشاورت پر زور دیتا ہے اور اس میں یہ بھی قید ہے کہ صرف سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہی اس عہدے کے لیے نامزد کیے جا سکتے ہیں۔
آئین کے تحت وزیراعظم قائد حزب اختلاف کے اتفاق رائے سے تین امیدواروں کے نام حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتے ہیں اور پھر کمیٹی ان میں سے کسی ایک کو اس عہدے کے لیے چُنتی ہے جس کا تقرر پھر صدرِ مملکت کرتے ہیں۔
جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد موجودہ چیف جسٹس ناصر الملک سمیت سپریم کورٹ کے متعدد جج اس عہدے پر اپنی ذمہ دایاں ادا کرتے رہے ہیں اور اس وقت سپریم کورٹ کے جج انور ظہیر جمالی اس وقت قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔







