خیرپور ٹریفک حادثہ، لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں

ایم ایس خیر پور ہسپتال نے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں 18 بچے، 21 خواتین اور 17 مرد شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنایم ایس خیر پور ہسپتال نے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں 18 بچے، 21 خواتین اور 17 مرد شامل ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر خیرپور میں منگل کی صبح ہونے والے ٹریفک حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی مسافروں کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 46 لاشیں سکھر ایئرپورٹ سے سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے رسالپور پہنچائی گئیں جس کے بعد انھیں سوات اور منگورہ پہنچایا گیا۔

دسری جانب 11 لاشیں کراچی پہنچائی گئی ہیں، جن میں پانچ پرانی سبزی منڈی، دو قصبہ، دو بنارس اور دو اتحاد ٹاون لے جائی گئیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق کراچی کے پرانی سبزی منڈی میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کی نمازہِ جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔

سول ہسپتال خیرپور کے انتظامی اہلکار نعمت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حادثے میں زخمی اور ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر کا تعلق سوات، باجوڑ پشاور اور کراچی سے ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بس کا ڈرائیور بھی حادثے میں ہلاک ہو گیا جبکہ ٹرک ڈرائیور کی حالت بھی تشویش ناک ہے اور کل 19 زخمی سول ہسپتال خیرپور میں زیر علاج ہیں۔

اس سے قبل ایم ایس خیر پور ہسپتال نے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں 18 بچے، 21 خواتین اور 17 مرد شامل ہیں۔

ہائی وے پولیس کے ایس ایس پی کیپٹن ریٹائرڈ فیصل عبداللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پشاور سے کراچی جانے والی مسافر بس مقامی وقت کے مطابق پونے پانچ بجے کے قریب ٹھیٹری بائی پاس پر واقع ایک پیٹرول پمپ سے تیل ڈلوانے کے بعد جیسے ہی سڑک پر آئی تو سامنے سے آنے والے ٹرالر سے ٹکرا گئی۔

انھوں نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حادثہ بس ڈرائیور کی غفلت کی وجہ سے پیش آیا۔

پاکستان میں ٹریفک حادثات عام ہیں اور ان کی عمومی وجوہات مخدوش سڑکیں، ٹرانسپورٹ کی خراب حالت، ڈرائیوروں کی غفلت، پہاڑی علاقوں میں تیز رفتاری سے گاڑیاں چلانا اور گاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کرنا بتائی جاتی ہیں۔