’بھارت محدود جنگ کر رہا ہے‘

،تصویر کا ذریعہAP

پنجاب رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل خان طاہر خان نے کہا ہے کہ بھارت ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے جس کی بظاہر کوئی عسکری وجوہات نظر نہیں آ رہی ہیں۔

انھوں نے یہ بات جمعہ کو سیالکوٹ ورکنگ باونڈری کی صورت حال پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔

ڈائریکٹر جنرل رینجرز پنجاب طاہر خان کے بقول بھارت سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈی پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ محدود جنگ کر رہا ہے۔

طاہر خان کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ بھارتی جارحیت کے پیچھے بھارت کی کوئی سیاسی وجوہات ہوں۔

ڈائریکٹر جنرل رینجرز پنجاب نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ بھارت ورکنگ باؤنڈی پر فائرنگ کو جواز بنا کر اس کو عالمی سرحد کا درجہ دلوانا چاہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

انھوں نے کہا ہے کہ بھارت سال دوہزار دس سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف کر رہا ہے اور اب تک بھارت کی جانب سے تیس ہزار سے زیادہ مارٹر گولے پھینکے جا چکے ہیں اُن کے بقول اتنی بڑی تعداد میں تو جنگ کے دوران بھی نہیں پھینکے جاتے ۔

ڈائریکٹر جنرل رینجرز پنجاب نے بھارت کے اِس موقف کو یکسر رد کر دیا ہے کہ ورکنگ باونڈری پر پاکستان کی جانب سے در اندازی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت حکام کا یہ الزام بے بنیاد ہے ۔

یکم اکتوبر سے پاکستان اور بھارت کی ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے جس میں ابھی تک 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں آٹھ بھارتی شہری اور 11 پاکستانی شامل ہیں۔ دونوں ملک ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگا رہے ہیں.

پاکستان اور بھارت کے وزرائے دفاع نے ایک دوسرے کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’بلااشتعال‘ شلینگ بند کرے۔

بھارتی وزیر دفاع ارون جیٹلی نے جمعرات کو الزام عائد کیا تھا کہ سرحد پر جاری گولہ باری کا مقصد پاکستان کی طرف سے دراندازی ہے۔ انھوں نےمزید کہا کہ حالیہ سیلابوں کے بعد بھارتی فوج نے بڑی تعداد میں دراندازوں کو ہلاک کیا ہے۔

ادھر پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن پاکستان:’دو ایٹمی ہمسایہ ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی کو محاذ آرائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا۔‘