قبائلی علاقوں سے تین مزید پولیو کیس سامنے آگئے

،تصویر کا ذریعہreuters
پاکستان میں وزیراعظم کے پولیو مانیٹرنگ سیل نے تین مزید پولیو کے مریضوں کی تصدیق کی ہے جس کے بعد ملک میں 2014 میں پولیو کے کیسوں کی مجموعی تعداد 66 ہو گئی ہے۔
وزیراعظم کے پولیو مانیٹرنگ سیل سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے دو اور جنوبی وزیرستان سے ایک نیا پولیو کیس سامنے آیا ہے۔
اس سال تصدیق شدہ 66 پولیو کیسوں میں سے 92 فیصد سے زیادہ یعنی 61 کیس صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقے سے سامنے آئے ہیں۔
تازہ ترین تین کیسوں میں تقریباً پونے دو سال عمر کا ایک لڑکا اور ایک لڑکی کے علاوہ چھ ماہ عمر کی ایک بچی بھی شامل ہے۔
وزیراعظم کے پولیو مانیٹرنگ سیل کے مطابق ان تینوں بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے گئے تھے اور قبائلی علاقوں اور شمالی اور جنوبی وزیرستان میں جون 2012 کے بعد سے کوئی انسدادِ پولیو مہم نہیں چلائی گئی، جس کی وجہ سے حالیہ پولیو مریضوں کی لہر سامنے آ گئی ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے حال ہی میں قبائلی علاقوں سے ملک کے دوسرے حصوں کی طرف آنے والے لوگوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے عمل کی نگرانی میں فوج کو شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کے مطابق قبائلی علاقوں کی سرحدوں پر قائم چوکیوں پر پولیو کے قطرے پلانے کے عمل کی نگرانی کی جائے گی اور سکیورٹی فراہم کرنے کا کام فوج کرے گی۔
پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں شامل ہے جہاں سے اب تک پولیو کو ختم نہیں کیا جا سکا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کراچی سمیت ملک کے بعض شہروں اور خاص طور پر قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کی طرف سے مخالفت کی وجہ سے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہمیں ادھوری رہی ہیں اور اطلاعات کے مطابق ان علاقوں میں پولیو نے وبا کی صورت اختیار کر لی ہے۔
حال ہی میں عالمی ادارۂ صحت کی طرف سے پاکستانیوں کے بیرون ملک سفر پر پابندی کے خدشے کے پیش نظر حکومت ِ پاکستان نے بیرون ملک سفر کرنے والے تمام مسافروں کو یکم جون سے ہوائی اڈوں پر پولیو کے قطرے پلانا لازمی قرار دے دیا ہے۔







