’پاکستانی حکومتیں صحت کو کاروبار سمجھتی ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, ظفر سید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں پولیو کے خاتمے اور زچہ و بچہ کی صحت کے میدان میں مقرر کردہ اہداف کے حصول میں ناکامی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومتوں نے صحت کے شعبے کو مشترکہ عوامی فلاح سمجھنے کی بجائے کاروبار سمجھ رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ 1973 کے آئین یا بعد میں کی جانے والی ترامیم میں صحت کو بنیادی انسانی حق تسلیم نہیں کیا گیا۔
یہ بات پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں کہی گئی ہے۔
مقالے کے مطابق اس کے باعث پاکستان میں اب تک حکومت کے ترجیحی ایجنڈا میں صحت کہیں نظر نہیں آتی، حالانکہ دنیا بھر کے کئی ترقی پذیر ممالک میں حکومتوں نے صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کر کے اس کا سیاسی فائدہ بھی اٹھایا ہے۔
انسانی حقوق کے عالمی اعلانیے مجریہ 1948 میں کہا گیا ہے: ’ہر فرد اور اس کے خاندان کو صحت کی مناسب سہولیات کا حق حاصل ہے۔‘ اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے ادارۂ صحت کے آئین میں درج ہے: ’صحت کے بلند ترین معیار سے استفادہ کرنا ہر فرد کا بنیادی انسانی حق ہے۔‘
’صحت کے سیاسی پہلو: پاکستان کے لیے سبق‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے مقالے کے مطابق دنیا میں 120 سے زیادہ ممالک نے صحت کو منصفانہ نظامِ قانون اور جمہوری سیاسی نظام کی طرح آئین کا حصہ بنا رکھا ہے۔
مقالے میں لکھا گیا ہے کہ نہ صرف 1973 کے آئین میں صحت کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ گذشتہ دورِ حکومت میں آئین میں ہونے والی 18ویں ترمیم میں پرائمری تعلیم کو تو شامل کیا گیا لیکن صحت کے حق کو شامل کرنے کا موقع کھو دیا گیا۔
تحقیق کے مصنف اور آغا خان یونیورسٹی میں کنسلٹنٹ نیوروسرجن ڈاکٹر رشید جمعہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں عام لوگ پرائیویٹ علاج کرواتے ہیں، حالانکہ عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا سرکار کا کام ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر صحت کے پروگراموں کی منصوبہ بندی کرے، لیکن یہ منصوبہ بندی صرف اسی وقت ہو سکتی ہے جب حکومت کے پاس سیاسی عزم موجود ہو۔
اگر کوئی حکومت صحت کی سہولیات عام کر دے تو اسے خود اس کا سیاسی فائدہ ہوتا ہے۔ جریدے میں شائع ہونے والے مضمون میں برازیل، تھائی لینڈ، میکسیکو اور وینزویلا کی مثالیں دی گئی ہیں جہاں حکومتوں نے صحت کو آئینی حق بنا کر عوام میں زبردست مقبولیت حاصل کر لی، اور انھیں انتخابات میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر رشید جمعہ نے پاکستان میں پولیو کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جن ممالک سے پولیو کا خاتمہ ہوا ہے ان سب میں پولیو کی روٹین امیونائزیشن پاکستان سے بہتر رہی ہے، اور پاکستان میں روٹین امیونائزیشن پر اتنی توجہ نہیں دی گئی جتنی دینی چاہیے تھی۔
ڈاکٹر جمعہ نے کہا کہ ہمارے ہاں سرکاری نظامِ صحت میں بہت سی کمزوریاں ہیں: ’کہیں ڈاکٹر نہیں، کہیں دوائی نہیں ہے، کہیں ٹیسٹ نہیں ہیں، سرکاری ہسپتالوں میں بھی پیسے دینے پڑتے ہیں اس لیے لوگ پرائیویٹ علاج کو ترجیح دیتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں صحت پر اٹھنے والے کل خرچ کا 73 فی صد حصہ لوگ اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں، جب کہ بقیہ 27 فیصد میں فلاحی ادارے اور پرائیویٹ ادارے بھی شامل ہیں اور حکومت کا حصہ انتہائی کم ہے۔
پاکستان صحت پر بہت کم خرچ کرتا ہے اور اس ضمن میں صومالیہ اور افغانستان جیسے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔
مضمون کے مطابق پاکستانی حکومت کا صحت پر فی کس خرچہ صرف چھ ڈالر ہے، حالانکہ عالمی ادارۂ صحت کی سفارشات کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کو صحت پر فی کس 35 سے 50 ڈالر خرچ کرنے چاہییں۔







