تھر:’اموات کی وجہ صحت کی سہولتوں تک عدم رسائی‘

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ تھر میں حالیہ اموات میں اضافے کا تعلق عوام کا صحت کی سہولتوں تک عدم رسائی سے ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے اپنے جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ تھر میں قریبی صحت مرکز تک پہنچنے کے لیے ایک ہزار سے چار ہزار رپے درکار ہوتے ہیں اور یہ سفر دو سے چار گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ سندھ حکومت یہ شکایت کرتی رہی ہے کہ لوگ ہپستالوں تک نہیں آتے، جس کی وجہ سے وہ صحت کی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے فقدان کی وجہ سے لوگ ایمرجنسی میں ٹیکسی میں سفر کرتے ہیں۔
سرکاری رکارڈ کے مطابق تھر میں ایک ضلعی ہپستال، تین تحصیل ہپستال، دو دیہی صحت مرکز، 34 بنیادی صحت مرکز، دو ماں اور بچہ صحت مرکز اور 82 ڈسپینسریاں موجود ہیں، جن میں 29 اسپیشلسٹ، 165 ڈاکٹروں جن میں ستائیس لیڈی ڈاکٹروں کی آسامیاں خالی ہیں، اسی طرح تین نرسنگ اسٹاف، 50 لیڈی ہیلتھ وزیٹرز اور 26 پیرامیڈیکل اسٹاف کی آسامیاں خالی ہیں۔
صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ تھر میں سرکاری رکارڈ کے مطابق 67 بچے ہلاک ہوئے ہیں لیکن یہ اعداد و شمار سرکاری صحت مراکز تحت محدود ہیں، سرکاری نظام سے باہر اموات رکارڈ نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے اموات کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تھر میں بچوں اور حاملہ خواتین میں بڑے پیمانے پر غذائی قلت موجود ہے، جس سے انفیکشن اور کئی بیماریوں میں جکڑنے کے خدشات موجود ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں تھر میں پہلے سے غذائی قلت کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے، رپورٹ کے مطابق غذائی قلت کی وجہ سے ورلڈ فوڈ پروگرام، ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف نے پہلے ہی تھر کو اولیت دے رکھی ہے۔
تھر میں کاشت کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کمرشل زراعت بدین اور میرپورخاص اضلاع کے قریبی علاقوں تک محدود ہے، جبکہ باقی تمام زراعت گھریلو استعمال کے لیے کی جاتی ہے،گذشتہ سال تاخیر سے ہونے والی بارشوں کی وجہ سے یہ کاشت نہیں ہوسکی، جس کی وجہ سے عوام کو گھریلو اناج میں قلت کا سامنا کرنا پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صحت کے عالمی ادارے کے مطابق مارچ اور اپریل میں بیس سے تیس فیصد آبادی بیراجی علاقوں میں جاتی ہے جہاں وہ گندم کی کٹائی کے لیے مزدوری کرتے ہیں، نقل مکانی کرنے والوں میں اکثریت میگھواڑ، بھیل اور کولھی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہے۔







