ضلع تھرپارکر کے مٹھی ڈسٹرکٹ ہسپتال میں بیمار بچے اور راشن کے لیے جمع لوگ
،تصویر کا کیپشنصوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر کے دارالحکومت مٹھی کے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ایک خاتون اپنی بچی کے ساتھ زمین پر بیٹھی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمٹھی کے ہسپتال میں ایک خاتون جن کی بیٹی کا علاج ہسپتال میں ہو رہا ہے ہسپتال کے بستر میں لیٹی آرام کر رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنوزیرِاعظم پاکستان نواز شریف نے قحط سالی کے شکار علاقے تھر کے لیے ایک ارب روپے امداد کا اعلان کیا ہے اور گندم کی تقسیم میں کوتاہی برتنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا کہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے تھر میں قحط سالی میں بچوں کی ہلاکت کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے موقع پر سندھ کی حکومت پر لاپرواہی برتنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنسندھ کے ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حالات اتنے ابتر نہیں ہیں جس طرح میڈیا میں منظر کشی کی جا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنعدالت نےحکومت سندھ سے تھر میں قحط سالی سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت 17 مارچ تک ملتوی کر دی۔
،تصویر کا کیپشنایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدل فاتح ملک نے عدالت کو بتایا جب تک بچوں کی حالت انتہائی خراب نہیں ہوتی، والدین بچوں کا علاج نہیں کرواتے۔ انھوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ گذشتہ تین ماہ میں 60 بچے ہلاک ہوئے ہیں، تاہم، وجہ قحط سالی نہیں بلکہ نمونیا اور دیگر بیماریاں تھیں۔
،تصویر کا کیپشنجسٹس شیخ عظمت سیعد نے پوچھا کہ کیا وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ بچوں کی ہلاکت کے ذمہ دار والدین ہیں؟ ’لوگوں کو وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ اعظم کی نہیں، کھانے کی ضرورت ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنچیف جسٹس نے بھی اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومتِ سندھ کو کتنے بچوں کی ہلاکت کے بعد ہوش آیا۔
،تصویر کا کیپشنانھوں نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے پوچھا کہ اتوار کے روز کتنے بچے ہلاک ہوئے تھے؟ وقفے کے بعد، عبدل فاتح ملک نے عدالت کو بتایا کہ دو بچے ہلاک ہوئے تھے۔