سیاست دان تھر پہنچ گئے:گندم کی تقسیم میں کوتاہی پر کارروائی کا حکم

،تصویر کا ذریعہafp
پاکستان کے وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے صوبہ سندھ میں قحط سالی کے شکار علاقے تھر کے لیے ایک ارب روپے امداد کا اعلان کرتے ہوئے گندم کی تقسیم میں کوتاہی برتنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا کہا ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے یہ اعلان پیر کو تھر کے دورے کے دوران مٹھی میں قحط زدہ علاقے کی صورتِ حال کے حوالے سے ایک بریفنگ کے دوارن کیا۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ ایسے حالات کے دوبارہ رونما ہونے سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
انھوں نے قحط سالی کی وجہ سے اموات پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ علاج کے لیے دوسرے علاقوں میں جانے کے لیے تیار نہیں انھیں موبائل یونٹ کے ذریعے ان کے گھروں میں علاج فراہم کیا جائے۔
میاں نواز شریف نے کہا کہ ان ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جنھوں نے گندم کا ذخیرہ ہونے کے باوجود اسے قحط زدہ لوگوں میں تقسیم نہیں کیا۔
اس موقع پر سندھ کے وزیرِاعلیٰ قائم علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کو خوراک اور ادویات مہیا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مستقبل میں اس قسم کی صورتِ حال سے بچنے کے لیے حکمتِ عملی تیار کی گئی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ متاثرین میں گندم تقسیم کرنے کے لیے پانچ سے چھ افراد پر مشتمل ٹیمیں بنائی گئیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو علاقے میں خاتون ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو خواتین ڈاکٹر تھر میں کام کرنا چاہتی ہیں انھیں زیادہ تنخواہ، مراعات، رہائش اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔
اس سے پہلے وزیراعظم نواز شریف نے مٹھی کے سول ہسپتال کا دورہ کیا اور متاثرہ بچوں کی بیمار پرسی کی۔ انھوں وہاں ہسپتال کے عملے کو بچوں کی تیمار داری کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس موقعے پر وزیراعظم کے ہمراہ سندھ کے وزیرِاعلیٰ قائم علی شاہ اور پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زداری بھی موجود تھے۔
پاکستان کی سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق تھرپارکر پہنچنے پر ضلعی افسر نے وزیرِاعظم نواز شریف کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ متاثرین میں خوراک کے 6 ہزار تھیلے اور گندم کی ایک لاکھ پچیس ہزار بوریاں تقسیم کی گئیں۔
ضلعی افسر نے کہا کہ قحط سالی سے مال مویشیوں کو زیادہ نقصان ہوا جس میں زیادہ تر بھیڑیں شامل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ علاقے میں مال مویشی لوگوں کا بڑا ذریعہ معاش ہے اس لیے مویشیوں کو بھی ویکسین لگائے گئے ہیں۔
ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق اس سے پہلے بلاول بھٹو پیر کی صبح مٹھی پہنچے، ان کی آمد سے پہلے پولیس نے پورے شہر کو ہی حصار میں لے لیا تھا، کوئی بھی پبلک ٹرانسپورٹ شہر میں داخل نہیں ہوسکی جبکہ شہر کے بازار بند رہے۔

بلاول بھٹو نے ہسپتال پہنچ کر مریضوں کی عیادت کی، انہیں ڈاکٹر ساتھ میں بچوں کی حالت کے بارے میں آگاہ کرتے رہے، یہ ان کا اس نوعیت کا پہلا عوامی رابطہ تھا۔ اس سے پہلے وہ پیپلز پارٹی کے جلسوں اور سندھ فیسٹیول کی تقریبات کو خطاب کرتے رہے ہیں۔
تھر میں قحط سالی اور بچوں کی ہلاکت کا بلاول بھٹو نے نوٹس لے کر وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو تھر پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر ان سے سوال کیے جاتے تھے کہ وہ کب تھر پہنچے گے۔
بعد میں بلاول بھٹو نے وزیرِاعظم میاں نواز شریف کا استقبال کیا اور دونوں نے دوبارہ ہپستال کا دورہ کیا۔اس دوران بھی مریضوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، جن میں تشویشناک حالت میں لائے گئے بچے اور حاملہ خواتین بھی شامل تھیں، جنہیں سکیورٹی کی وجہ سے ہپستال تک پہنچے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
سرکاری میڈیا کے مطابق نوازشریف نے تھر میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر دکانیں بند ہونے اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ کے چیف سیکرٹری کو تمام سرگرمیاں بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔
ادھر ہماری نامہ نگار عنبر شمسی کے مطابق سپریم کورٹ نے تھر میں قحط سالی میں بچوں کی ہلاکت کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے موقع پر سندھ کی حکومت پر لاپرواہی برتنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
سماعت کے موقع پر سندھ کے ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حالات اتنے ابتر نہیں ہیں جس طرح میڈیا میں منظر کشی کی جا رہی ہے۔ عدالت نےحکومت سندھ سے تھر میں قحط سالی سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت 17 مارچ تک ملتوی کر دی۔







