سندھ حکومت کا بچوں کی ہلاکت میں ’مجرمانہ غفلت‘ کا اعتراف

صحرائی علاقے تھر کو شدید قحط سالی کا سامنا ہے
،تصویر کا کیپشنصحرائی علاقے تھر کو شدید قحط سالی کا سامنا ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سندھ کی حکومت نے تھر میں بچوں کی ہلاکت میں مجرمانہ غفلت کا اعتراف کیا ہے اور اس کے مرتکب افسران کا تعین کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے صحرائی علاقے تھر کو شدید قحط سالی کا سامنا ہے۔ چرند اور پرند کے بعد اب انسانوں پر بھی غذائی قلت کے اثرات سامنے آئے ہیں۔ ان مشکلات کا سب سے پہلا شکار بچے بنے ہیں اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف مٹھی ضلعی ہپستال میں دو ماہ میں 60 بچے فوت ہو چکے ہیں۔

تاہم نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمینٹ اتھارٹی کے سربراہ میجر جنرل سعید علیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھر میں صورتحال اتنی سنگین نہیں ہے جتنی کہ بتائی جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے تھر کے دورے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال سخت سردی پڑی جس کی وجہ سے بچے نمونیا میں مبتلا ہوگئے، جب کہ دوسری وجہ خوراک کی کمی ہے، جس کے باعث بچوں کو دودھ نہیں ملا۔

ادھر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقر نے تھر میں قحط سالی میں بچوں کی ہلاکت کا از خود نوٹس لے لیا ہے اور 14 مارچ کو متعلقہ حکام سے اس سلسلے میں جواب طلب کیا ہے۔

ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام سے پوچھا ہے کہ تھر میں قحط سالی کی صورتِ حال کیوں پیدا ہوئی اور علاقے میں سرکاری گندم کی تقسیم کا کیا نظام ہے، اس سے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

چارا اور خوراک دستیاب نہ ہونے کے باعث پہلے مور بیماری کا شکار ہوئے، جس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں بھیڑیں اور بکریاں مر گئی ہیں
،تصویر کا کیپشنچارا اور خوراک دستیاب نہ ہونے کے باعث پہلے مور بیماری کا شکار ہوئے، جس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں بھیڑیں اور بکریاں مر گئی ہیں

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ سرکاری گندم کی درست تقسیم نہیں ہوسکی تھی، جس وجہ سے غذا کی کمی میں اضافہ ہوا۔ گندم کی تقسیم ریلیف کمشنر کے ذریعے ہونی تھی لیکن وہ بیمار پڑ گئے جس وجہ سے تقسیم متاثر ہوئی۔ حکومت نے اس کا نوٹس لے لیا ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ صرف تھر کے ضلعی ہپستال مٹھی میں طبی سہولیات موجود ہیں اور پورے ضلعے کے علاقے دیگر علاقوں سے مریض یہیں لائے جاتے ہیں۔ وہاں گذشتہ دو ماہ میں 41 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ مٹھی ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کا یہ فرض تھا کہ جب بچوں میں غذائی قلت کی تشخیص ہو رہی تھی تو ڈائریکٹر اور سیکریٹری کو بتاتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان بچوں کو تشخیص کے بعد فوری طور پر حیدرآباد یا کراچی منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔

سید قائم علی شاہ نے بھیڑوں کی ہلاکت پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ ڈائریکٹر اینیمل ہسبنڈری کو معطل کردیا گیا ہے۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکموں کی مجرمانہ غفلت تسلیم کی اور تحقیقات کے لیے پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کا اعلان کیا، جس میں ڈی آئی جی ثنااللہ عباسی بھی شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی بتائی گی کہ کس نے کتنی غفلت کی ہے۔

وزیراعلیٰ نے دس کروڑ مالیت کے خوراک کے پیکیج کا اعلان کیا، جس کی تقسیم میں مقامی رکن اسمبلی اور صحافیوں کو شامل کیا جائے گا، جبکہ مٹھی ہپستال کو ایک کروڑ کی دوائیں فراہم کی جائیں گی۔

این ڈی ایم اے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ حکومتِ سندھ کے مطابق تھر میں صورتحال اتنی سنگین نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ قحط کی صورتحال ایک رات میں پیدا نہیں ہو جاتے۔ ’جنوری میں ہماری ٹیم نے معمولی درجے کے قحط کی وارننگ دی تھی کیونکہ تھر ڈسٹرکٹ میں بارشیں بھی کم ہوئی ہیں۔‘

اچوں کی ہلاکتوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جو معلومات ان کے پاس ہیں فروری کے مہینے میں 23 بچوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

’ان تئیس بچوں میں سے کسی کی موت بھی قحط کے باعث نہیں ہوئئ۔ چھ کی موت نمونیا سے ہوئی اور باقی کی موت دیگر پیچیدگیوں کے باعث ہوئی ہیں۔‘

صحرائی علاقے تھر کو اکثر برسوں کے دوران قحط کا سامنا رہتا ہے۔ اس علاقے کی دس لاکھ سے زیادہ آبادی کا گزر بسر مال مویشیوں یا بارانی زراعت پر ہے۔ چارا اور خوراک دستیاب نہ ہونے کے باعث پہلے مور بیماری کا شکار ہوئے، جس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں بھیڑیں اور بکریاں مر گئی ہیں۔

مال مویشیوں کو بچانے کے لیے قحط کے بعد لوگ بیراجی علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے۔ برطانوی دور حکومت میں اگر 15 اگست تک بارشیں نہ ہوتیں تو علاقے کو سرکاری طور پر قحط زدہ قرار دے کر تمام ٹیکس معاف اور رعایتی قیمت پر گندم فراہم کی جاتی تھی۔

گذشتہ سال بھی رھر میں مقررہ وقت تک مطلوبہ بارشیں نہیں ہوئیں اور علاقہ قحط کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس سلسلے میں حکومت نے گندم کی 60 ہزار بوریاں بھیجیں لیکن وہ تقسیم نہ ہوسکیں۔

تھر میں کوئلے، چانئا کلے، گرینِٹ پتھر اور نمک کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی کا کہنا ہے کہ حکومت نے تھر کے انھی علاقوں میں سڑکیں بنائی ہیں جہاں یہ ذخائر ہیں تاکہ انہیں چوری کیا جا سکے لیکن وہاں کے عوام میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں جس کا ثبوت حالیہ سنگین صورتِ حال ہے۔