’طالبان کا راج اور پتھر کا دور قبول نہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے طالبان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پاکستان کو ’پتھرکے دور‘ میں واپس لے جانا چاہتے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق سنیچر کو سندھ فیسٹیول کے آخری روز خطاب کرتے ہوئے انھوں نےکہا کہ طالبان ظلم اور تشدد سے وحشت کا قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ طالبان کو اس وقت سے ڈرنا چاہیے جب پوری قوم ان کے خلاف کھڑی ہو گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا ’طالبان ملک میں دہشت کا نظام رائج کرنا چاہتے ہیں لیکن میں انھیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر پاکستان میں رہنا ہے تو اس کا آئین ماننا ہوگا‘۔
بلاول نے کہا ’ہم دہشت گردوں کے قانون کو نہیں مانتے۔ کچھ لوگ ہمیں اسلام کے نام پر پتھر کے دور میں واپس لے جانا چاہتے ہیں‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم مسلمان ہیں اور دہشت گردوں کو ہمیں اسلام کے بارے میں تعلیم دینے کی ضرورت نہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق بلاول کا طالبان کے خلاف یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سنیچر ہی کو پاکستان میں علما نے امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے جنگ بندی کو پہلی اور لازمی شرط قرار دیتے ہوئے حکومت اور طالبان دونوں سے کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ جمعہ کو ملک میں قیام امن کے لیے حکومت اور طالبان کی طرف سے نامزدہ کردہ کمیٹیوں نے بھی دہشت گردی کے لیے ’منافی امن‘ کارروائیوں کا لفظ استعمال کرتے ہوئے اس طرح کی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے کی اپیل کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کراچی میں جمعرات کو پولیس کی بس پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان نے دھمکی دی تھی کہ باقاعدہ جنگ بندی ہونے تک ان کی کارروائیاں جاری رہیں گی جس کے بعد حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔







