چشمہ:جوہری بجلی گھر کا تعمیراتی کام مکمل

چوتھے مرحلے کے تعمیراتی کام کی تکمیل حفاظتی گنبد (کنٹینمنٹ ٹومب) کی تنصیب سے ہوئی
،تصویر کا کیپشنچوتھے مرحلے کے تعمیراتی کام کی تکمیل حفاظتی گنبد (کنٹینمنٹ ٹومب) کی تنصیب سے ہوئی
    • مصنف, محمود جان بابر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، چشمہ میانوالی

پاکستان میں چشمہ کے مقام پر تیسرے اور چوتھے مرحلے کے جوہری توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں ’سی تھری‘ اور ’سی فور‘ کا تعمیراتی کام مکمل ہوگیا ہے۔

جمعرات کو پاکستان میں منصوبہ بندی اور ترقی کے وفاقی وزیراحسن اقبال نے چوتھے پلانٹ پر حفاظتی گنبد(کنٹینمنٹ ٹومب) لگایا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ پاکستان میں چین کے سفارتکار اور ماہرین بھی موجود تھے۔

یہ پلانٹ 2016 کے آخر تک بجلی کی پیداوار شروع کر دیں گے اور مزید 680 میگا واٹ بجلی نیشنل گریڈ میں آ سکے گی۔

اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام آنے کے بعد اب ترقی کی جانب دوسرا قدم اٹھایا جارہا ہے اور پاکستان سول نیوکلیئر توانائی کے ذریعے بجلی بنانے کے حق کو استعمال میں لا کر اپنی مستقبل کی ضروریات ہر صورت پورا کرے گا۔

افتتاح سے قبل بدھ کی شام پاکستان میں ایٹمی توانائی کمیشن کے سربراہ انصر پرویز نے چشمہ میں ہی پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کو پاکستان میں جوہری توانائی سے بجلی کے پیداوار کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ جاپان میں فوکوشیما ایٹمی پلانٹ کو سونامی سے پہنچنے والے نقصان کے بعد پاکستان میں چشمہ پاور پلانٹ کے جنریٹر تھری کے ڈیزائن میں حفاظتی نقطۂ نظرسے ضروری تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بجلی کی پیداوار کے لیے تیل پر انحصارکم کرتے ہوئے مستقبل میں تیل سے بجلی پیدا کرنے کا کوئی پلانٹ نہیں لگایا جائے گا۔

پاکستان میں ایٹمی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے چشمہ منصوبے کے تحت دو پلانٹس سی ون اور سی ٹو سے مجموعی طور پر 655 میگا واٹ بجلی حاصل کی جاتی ہے جس میں سے 50 میگا واٹ پلانٹس کی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد باقی بجلی نیشنل گرِڈ میں شامل کی جاتی ہے۔

پاکستان کواس وقت بجلی اورگیس کی شدید قلت کا سامنا ہے اور وہ پانی، تیل، گیس، کوئلے اورجوہری توانائی سے بجلی حاصل کر رہا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مستقبل قریب میں اس بحران کو قابو کرنا ممکن نہیں جس کے لیے مسلم لیگ نواز کی حکومت بھی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے۔

اس موقع پر روایتی موسیقی کا انتظام کیا گیا تھا جس سے چینی انجینئرز خوب محظوظ ہوئے
،تصویر کا کیپشناس موقع پر روایتی موسیقی کا انتظام کیا گیا تھا جس سے چینی انجینئرز خوب محظوظ ہوئے

انصرپرویز کا کہنا تھا کہ کراچی میں جب پاکستان نے بجلی کی پیداوار کے لیے کینپ جوہری پلانٹ لگایا تو دنیا نے اس کا یہ حق تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے تعاون چھوڑ دیا، تاہم چین نے دنیا کے دباؤ کوقبول نہ کرتے ہوئے اس کا ساتھ دیا اورچشمہ کے مقام پر بھی اس جوہری توانائی کے منصوبے کے لیے چین نے ہی پاکستان کو مالی اور فنی مدد فراہم کی ہے۔

انصر پرویز کا کہنا تھا کہ دنیا پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک کررہی ہے اور سول نیوکلئیر ٹیکنالوجی کے میدان میں اس کو اس کا حق نہیں دیا جا رہا لیکن بھارت کو 2008 میں 123 معاہدوں کے تحت جوہری کاروبار، جوہری مواد کی نقل و حمل اور سول جوہری ٹیکنالوجی سے پورا فائدہ اٹھانے کا حق دیا گیا۔

انصر پرویز کا کہنا تھا کہ جوہری توانائی کے میدان میں پاکستان کے سائنس دانوں کی مہارت اتنی ہی ہے جتنی کسی بھی بین الاقوامی تنظیم کے ماہرین کی ہے۔

انھوں نے کہا ہم یہ سب کچھ کھلم کھلا کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی ایٹمی توانائی کی ایجنسی آئی اے ای اے کو ہر بار دعوت دیتے ہیں کہ وہ آ کر پاکستان کے معیار کو جانچ سکے۔

جوہری توانائی کمیشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان بتدریج سول ایٹمی توانائی کے میدان میں ترقی کر رہا ہے اور ویژن 2050 کے منصوبہ کے تحت ایٹمی توانائی سے 42000 میگاواٹ بجلی حاصل کرسکے گا۔

پاکستان کے حساس علاقوں میں جوہری توانائی کے منصوبے لگانے سے خطرے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ’بعض دوست‘ ان تنصیبات کی حفاظت کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے رہتے ہیں لیکن یہ اتنے حفاظتی حصاروں میں ہیں کہ کسی کے لیے ان کے اندر پہنچنا ممکن نہیں اور نہ ہی ان کو میزائل حملے سے کوئی نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔

یادرہے کہ حال ہی میں میڈیا میں بعض خبروں کے ذریعے ان خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ پاکستان کا جوہری توانائی پروگرام محفوظ نہیں ہے اور ان تنصیبات میں کام کرنے والے عملے کو بھی وہ تربیت حاصل نہیں جیسی ان اہم جگہوں پرکام کرنے کا تقاضہ ہوتا ہے۔