صحرائے تھر اور وہاں کے لوگ

پاکستان کے سب سے بڑے صحرا تھر کے لوگ قحط سالی کا شکار

سندھ کے جنوب مشرق کی طرف بھارتی سرحد سے متصل 22 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط صحراء تھر پاکستان کا سب سے بڑا صحرا سمجھا جاتا ہے۔
(تحریر و تصاویر صحافی، امر گرڑو)
،تصویر کا کیپشنسندھ کے جنوب مشرق کی طرف بھارتی سرحد سے متصل 22 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط صحراء تھر پاکستان کا سب سے بڑا صحرا سمجھا جاتا ہے۔ (تحریر و تصاویر صحافی، امر گرڑو)
صحراء تھر کی آبادی غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پندرہ لاکھ کے قریب ہے اور یہاں کے مکین غربت کی وجہ سے سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ اکثر لوگ گھاس سے بنے ہوئے گھروں میں رہتے ہیں جسے مقامی زبان میں چونرا کہتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنصحراء تھر کی آبادی غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پندرہ لاکھ کے قریب ہے اور یہاں کے مکین غربت کی وجہ سے سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ اکثر لوگ گھاس سے بنے ہوئے گھروں میں رہتے ہیں جسے مقامی زبان میں چونرا کہتے ہیں۔
تھر کے لوگ اپنا گزر بسر بارانی زراعت اور مال مویشی پر کرتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تھر میں پچاس لاکھ مویشی ہیں جن میں بکری، بھیڑ، گائے اور اونٹ شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشنتھر کے لوگ اپنا گزر بسر بارانی زراعت اور مال مویشی پر کرتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تھر میں پچاس لاکھ مویشی ہیں جن میں بکری، بھیڑ، گائے اور اونٹ شامل ہیں۔
 سندھ میں گوشت، دودھ اور چمڑے کی صنعت کا ستر فیصد تھر کے مویشیوں سے پورا ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشن سندھ میں گوشت، دودھ اور چمڑے کی صنعت کا ستر فیصد تھر کے مویشیوں سے پورا ہوتا ہے۔
صحرا تھر کے لوگوں کی نظریں پانی کے لیے آسمان یا پاتال پر ہوتی ہیں۔ کنویں سے پانی نکالنے سے لےکر گھر پہنچانے تک کی ذمے داری خواتین پر ہوتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنصحرا تھر کے لوگوں کی نظریں پانی کے لیے آسمان یا پاتال پر ہوتی ہیں۔ کنویں سے پانی نکالنے سے لےکر گھر پہنچانے تک کی ذمے داری خواتین پر ہوتی ہے۔
رقبے کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا صحرا ان دنوں قحط سالی کا شکار ہے، جس کا پہلا شکار جانور بنے۔
،تصویر کا کیپشنرقبے کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا صحرا ان دنوں قحط سالی کا شکار ہے، جس کا پہلا شکار جانور بنے۔
جانوروں کے بعد یہاں بچے سب سے پہلے غدائی قلت کا شکار ہوئے، اب تک سو سے زائد بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجانوروں کے بعد یہاں بچے سب سے پہلے غدائی قلت کا شکار ہوئے، اب تک سو سے زائد بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔
قحط سالی لوگوں کو اپنا دیس چھوڑنے پر مجبور کردی ہے اور ان کی منزل بیراجی علاقے ہوتے ہیں، جہاں وہ مزدوری کرتے ہیں اور واپسی کے لیےبارش کے منتظر ہوتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنقحط سالی لوگوں کو اپنا دیس چھوڑنے پر مجبور کردی ہے اور ان کی منزل بیراجی علاقے ہوتے ہیں، جہاں وہ مزدوری کرتے ہیں اور واپسی کے لیےبارش کے منتظر ہوتے ہیں۔
نقل مکانی کرتے ہوئے خاندان
،تصویر کا کیپشننقل مکانی کرتے ہوئے خاندان
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ٹوئٹر پر قحط سالی کا نوٹس لیا، جس کے بعد انہوں نے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کو بھیجا، اور پیر کو وہ خود مٹھی پہنچے۔
،تصویر کا کیپشنپیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ٹوئٹر پر قحط سالی کا نوٹس لیا، جس کے بعد انہوں نے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کو بھیجا، اور پیر کو وہ خود مٹھی پہنچے۔