بیرونِ ملک مسافروں کے لیے پولیو ویکسینیشن لازمی

اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے پاکستان کی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کے ذریعے کام کریں گی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس اقدام پر عمل درآمد کے لیے پاکستان کی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کے ذریعے کام کریں گی

پاکستان کی نیشنل ہیلتھ سروسز کی وزارت نے اعلان کیا ہے کہ یکم جون 2013 سے پاکستان سے باہر سفر کرنے والے تمام مسافروں پر لازمی ہوگا کہ وہ سفر کے وقت پولیو ویکسینیشن کا سرٹیفیکیٹ پیش کریں۔

یہ اعلان عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور پاکستان کی وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگیولیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے ایک مشترکہ بیان میں کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ہیلتھ ریگیولیشنز 2005 کا ممبر ملک ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر نبھانے کے لیے پرعزم ہے۔

نامہ نگار عنبر شمسی نے بتایا کہ سفر کے وقت پولیو سرٹیفیکیٹ پیش کرنے کی شرط کا اطلاق تمام بچوں، بالغوں، حاملہ خواتین سمیت ہر مسافر پر ہوگا اور اس کا اطلاق پاکستانی شہریوں کے ساتھ ساتھ ملک میں ایک ماہ سے زیادہ قیام کرنے والے غیر ملکی شہریوں پر بھی ہوگا۔

وزارتِ صحت کے ترجمان ساجد شاہ نے بتایا کہ یہ ویکسینیشن حاملہ خواتین کے لیے مضرِ صحت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ پاکستان، کیمرون اور شام دنیا میں پولیو کے وائرس کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا خطرہ ہیں اور ان ملکوں کو سرکاری طور پر اس مرض کے بیرونِ ملک پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ہنگامی حالت کا اعلان کرنا چاہیے۔

ڈبلیو ایچ او نے پولیو کے مرض کے پھیلاؤ کو صحتِ عامہ کے معاملے میں عالمی ایمرجنسی قرار دیا تھا اور کہا کہ پولیو کے مرض کے پھیلاؤ کا باعث بننے والے پاکستان سمیت تینوں ممالک کے شہریوں پر بیرونِ ملک سفر سے قبل پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پینا لازم قرار دیا جائے۔

پاکستان میں عالمی ادارۂ صحت کی ویکسینیشن ٹیموں پر متعدد حملے ہوچکے ہیں جہاں طالبان دعویٰ کرتے ہیں کہ اس مہم کی آڑ میں مغربی ملک جاسوسی کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں عالمی ادارۂ صحت کی ویکسینیشن ٹیموں پر متعدد حملے ہوچکے ہیں جہاں طالبان دعویٰ کرتے ہیں کہ اس مہم کی آڑ میں مغربی ملک جاسوسی کرتے ہیں

بیان کے مطابق ڈبلیو ایچ او کی تجاویز پر عمل شروع کر دیا گیا ہے اور ملک بھر میں صحت کے مراکز مسافروں کی آسانی کے لیے انھیں پولیو ویکسینیشن کے سرٹیفیکیٹ جاری کریں گے۔

اس کے علاوہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے پاکستان کی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کے ذریعے کام کریں گی اور حکومتِ پاکستان اس حوالے سے ڈبلیو ایچ او، یونیسیف اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔

پولیو کچھ عرصہ پہلے تک دنیا کے صرف تین ممالک پاکستان، افغانستان اور نائجیریا میں عام طور پر پایا جاتا تھا مگر حال ہی میں اس بیماری نے عرب ملکوں شام اور عراق سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں دوبارہ سر اٹھایا ہے۔

بچوں پر حملہ کر کے انھیں ہمیشہ کے لیے معذور بنا دینے والے اس وائرس کی روک تھام ویکسینیشن ہی سے ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں پولیو کے نئے مریضوں کی تعداد میں اس سال اب تک 600 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سنہ 2013 میں اپریل تک پاکستان میں پولیو کے آٹھ کیس سامنے آئے تھے جبکہ اس سال 56 کیس منظرِ عام پر آئے ہیں۔

بھارت نے، جسے پولیو سے پاک قرار دیا جا چکا ہے، پاکستانی مسافروں پر انسدادِ پولیو ویکسینیشن پہلے ہی لازمی کر دی ہے۔

حکومت پاکستان اور عالمی ادارۂ صحت کی یہی کوشش رہی ہے کہ پاکستان میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم مکمل کی جائے، لیکن اس مہم میں حصہ لینے والے صحت کے کارکنوں اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کی وجہ سے یہ مہمیں مشکلات کا شکار رہی ہیں۔

پاکستان میں عالمی ادارۂ صحت کی ویکسینیشن ٹیموں پر متعدد حملے ہوچکے ہیں جہاں طالبان دعویٰ کرتے ہیں کہ اس مہم کی آڑ میں مغربی ملک جاسوسی کرتے ہیں۔ ان حملوں میں اب تک اس مہم میں حصہ لینے والے کم سے کم 59 افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔