’طالبان اور حکومت کے براہ راست مذاکرات جلد شروع ہو سکتے ہیں‘

جس نامعلوم مقام پر مذاکرات ہو رہے ہیں وہاں ٹیلی فون کی سہولت مہیا نہیں: مولانا سمیع الحق

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجس نامعلوم مقام پر مذاکرات ہو رہے ہیں وہاں ٹیلی فون کی سہولت مہیا نہیں: مولانا سمیع الحق
    • مصنف, ارم عباسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

حکومت سے رابطوں کے لیے کالعدم تنظیم تحریک طالبان کی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے جمعہ کو کمیٹی کے ارکان کی وزیرستان سے واپسی پر کہا ہے کہ طالبان حکومت سے براہ راست مذاکرات کرنے پر تیار ہیں اور آئندہ چند دنوں میں طالبان اور حکومتی نمائندہ آمنے سامنے بیٹھ کر باقاعدہ مذاکرات شروع کر سکتے ہیں۔

مولانا سمیع الحق نے اکوڑہ خٹک میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے میں ان کی طرف سے کوئی تاخیر نہیں ہے اب یہ حکومت پر ہے کہ وہ مذاکراتی عمل کو جلد از جلد شروع کرنے کے لیے کیا کرتی ہے۔

مولانا سمیع الحق نے حکومت پر زور دیا کہ وہ طالبان کی طرف ان کی عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو رہا کرنے کے مطالبے کو جلد از جلد پورا کیا جائے۔

پشاور اور کوئٹہ میں جمعہ کو ہونے والے حملوں کے بارے میں مولانا سمیع الحق نے کہا کہ طالبان نے بھی ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ طالبان ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کا بھی کچھ فرض بنتا ہے کہ وہ بھی ان واقعات کی تحقیقات کریں اور دیکھیں کہ کون سے لوگ ان کے پیچھے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انھیں علم تھا کہ مذاکراتی عمل کے آگے بڑھنے سے ایسے واقعات میں اضافہ ہوگا اور کچھ عناصر ان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کریں گے۔

فوجی آپریشن کی ایک بار پھر مخالفت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر سو بار بھی مذاکرات ناکام ہو گئے تب بھی وہ آپریشن کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں فوجی آپریشن میں نہتے لوگوں کا ہی نقصان ہوا ہے۔

مولانا سمیع الحق کے بقول طالبان قیادت نے کمیٹی پر پورے اعتماد کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ وہ باقاعدہ مذاکرات میں بھی شامل رہیں گے۔

پروفیسر ابراہیم خان، مولانا یوسف شاہ اور مولانا عبدالحئی پر مشتمل طالبان کمیٹی کے اراکین گذشتہ روز ہیلی کاپٹر کے ذریعے وزیرستان پہنچے تھے اور طالبان کی شوریٰ کے ساتھ نامعلوم مقام پر مذاکرات کیے تھے۔

ان مذاکرات کے بعد یہ کمیٹی جمعے کو واپس آئی اور اس نے مولانا سمیع الحق سے ملاقات کی تھی۔

خیال رہے کہ حکومت پاکستان اور طالبان کے درمیان مذاکرات دوسرے مرحلے یعنی رابطہ کاری کے بعد فیصلہ سازی میں داخل ہو گئے ہیں جس کے لیے حکومت نے نئی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے نامزد حکومتی کمیٹی میں پورٹس اور شپنگ کے وفاقی سیکریٹری حبیب اللہ خان خٹک، ایڈیشنل چیف سیکریٹری فاٹا ارباب محمد عارف، وزیرِاعظم سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل سیکریٹری فواد حسن فواد اور پی ٹی آئی کے رستم شاہ مہمند شامل ہیں۔