’فوج نہیں مانتی‘

،تصویر کا ذریعہ
طالبان سے رابطے کرنے کے لیے بنائی گئی سرکاری کمیٹی کے رکن اور طالبان کے امور کے تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ حکومت نے فوج کو مذاکراتی کمیٹی میں شامل کرنے کے لیے بڑی کوشش کی لیکن فوج نے کمیٹی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین میں ایک گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے رحیم اللہ یوسفرزئی نے کہا کہ حکومت یہ دعوی کرتی ہے کہ فوج ان کے ساتھ ہے اور فوج بھی یہی کہتی ہے کہ جو بھی حکومتی پالیسی ہوگی وہ اس پر کاربند رہیں گے۔
رحیم اللہ یوسفزئی نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں فوج اور حکومت کی سوچ میں اس اہم مسئلے پر فرق ہے۔ انھوں نے کہا کہ فوج کے لوگ سمجھتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات کا طریقہ کارگر ثابت نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی مذاکرات ہوئے ہیں اور فوج کی یہی سوچ ہے کہ اس مسئلے کا اس طریقے سے حل ممکن نہیں ہے۔
رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا کہ حکومتی جماعت اور عمران خان مذاکرات کو ہی حل سمجھتے ہیں اور عمران خان حکومت کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔
طالبان سے باقاعدہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے نئی کمیٹی کے بارے میں رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا کہ پرانی کمیٹی میں تین افراد ایسے تھے جن کا براہ راست حکومت سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اب جو کمیٹی بنائی جا رہی ہے اس میں سرکاری افسران شامل ہیں اور اب طالبان اور حکومت کے درمیان براہ راست بات چیت ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
سیربین کی گفتگو میں شامل دفاعی امور کے تجزیہ کار بریگیڈیئر سعد جو طالبان سے بات چیت یا مذاکرات کے ہمیشہ سے مخالف رہے ہیں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اس استدلال سے بالکل متفق نہیں تھے کہ مذاکرات نے طالبان کے اندر کسی قسم کا کوئی اختلاف پیدا کر دیا ہے۔
بریگیڈیئر سعد کا کہنا تھا کہ طالبان بہت شاطر اور قابل لوگ ہیں اور وہ کسی ابہام کے بغیر یکسوئی سے اپنے اہداف کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بریگیڈیئر سعد نے سوال کیا کہ کن معلومات کی بنیاد پر اس یقین سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ طالبان تقسیم ہو چکے ہیں؟
انھوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان شمالی وزیرستان میں ایک حاوی گروپ ہے اور باقی سب گروہ اس کی ذیلی شاخیں ہیں اور انھیں انگریزی میں ’شیڈو گروپ‘ بھی کہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ تحریک طالبان کی اجازت کے بغیر دہشت گردی کی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ انھوں نے کہا کہ مختلف گروپوں کا وجود طالبان کی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ آپ ’انٹیلیجنس راڈر‘ کو دھندلا کر دیں اور ساتھ ہی ہو ان کارروائیوں سے اپنے آپ کو علیحدہ بھی کر سکتے ہیں۔
بریگیڈیئر سعد کا کہنا تھا کہ حکومت ابہام کا شکار ہے۔
مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے تو ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ ان کا ایجنڈا کیا ہوگا۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا حکومت وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خالی کر دے گی، یا طالبان کے کہنے پر اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کر دے گی۔
بریگیڈیئر سعد نے ایک اور سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی سمجھ سے بات بلاتر ہے کہ حکومت مذاکرات پر آمادہ اور مذکرات سے انکار کرنے والے طالبان میں امتیاز کیسے کرے گی۔
انھوں نے کہ ان لوگوں کے درمیان تفریق کیسے کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ’انٹیلیجنس کا بلیک ہول‘ ہے اور کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اگر آپ ایک کو ہاتھ لگائیں گے سب جواب مل کر جواب دینے کے لیے آ جائیں گے۔







