’قبائلی علاقوں میں پولیو مہم پر طالبان سے مذاکرات کا حصہ بنائیں‘

یہ ملاقات عمران خان کی بنی گالہ کی رہائش گاہ پر ہوئی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنیہ ملاقات عمران خان کی بنی گالہ کی رہائش گاہ پر ہوئی
    • مصنف, عنبر شمسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے اگلے مرحلے میں شمالی وزیرستان میں انسدادِ پولیو مہم پر طالبان کی پابندی کا معاملہ بھی اٹھایا جائے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خاص طور پر شمالی وزیرستان میں پولیو مہم شروع کرنے کا معاملہ عالمی ادارئے صحت کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مارگرٹ چین نے عمران خان سے اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں ان کی رہائش گاہ پر اٹھایا تھا۔

اس ملاقات میں موجود ذرائع نے بتایا کہ عالمی ادارئے صحت کے نمائندوں نے عمران خان سے درخواست کی کہ قیامِ امن کے لیے طالبان کےساتھ مذاکرات میں شمالی وزیرستان میں انسدادِ پولیو مہم کے خلاف پابندی اٹھائے جانے کو ان مذاکرات کا حصہ بنایا جائے۔

عمران خان نے عالمی ادارئے صحت کی سربراہ کو یقین دلایا تھا کہ وہ وفاقی حکومت سے کہیں گے کہ طالبان سے مذاکرات میں قبائلی علاقوں میں پولیو مہم شروع کرنے کا معاملہ بھی اٹھائیں۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ عمران خان نے مزید کہا کہ قبائلی علاقوں کی ذمہ داری وفاق کی ہے۔ لیکن اس پر پیش رفت وفاقی حکومت ہی کر سکتی ہے۔

عالمی ادارائے صحت کے اہل کاروں کا کہنا تھا کہ اگر فاٹا میں بچوں کو قطرے نہیں پلائےگئے تو دارالحکومت پشاور اور خیبر پختونخوا کے بندوبستی علاقوں میں ایک بار پھر وائرس پھیلنے کا خطرہ ہے۔ اس پر عمران خان نے کہا کہ آج وزیرِ اعظم کے ساتھ ملاقات کے وقت اس معاملے کو اٹھایا جائے گا۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں جولائی سنہ 2012 میں تحریکِ طالبان پاکستان نے انسدادِ پولیو مہم پر پابندی لگائی تھی اور لاکھوں بچے اس ویکسین سے محروم ہیں۔

اس سال اب تک پاکستان میں پولیو کے 26 کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے 23 فاٹا سے ہیں اور تین خیبرپختونخوا سے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں، پولیو کیسس میں 700 فیسد کا اضافہ ہے۔

جنوری میں عالمی ادارئے صحت نے پشاور کو پولیو وائرس کا گڑھ قرار دیا تھا، جس کے بعد حکومتِ خیبرپختونخوا نے ’صحت کا انصاف‘ کے نام سے ایک ہنگامی مہم شروع کی جس کا مقصد پشاور میں وائرس کا خاتمہ ہے۔ اس مہم کے اب تک چھ مرحلے مکمل ہو چکے ہیں اور چھ اور باقی ہیں۔

تاہم، ذرائع کے مطابق، عالمی ادارئے صحت کے اہل کاروں اور تحریکِ انصاف کے سربراہ کے درمیان اس بات پر بھی فیصلہ ہوا ہے کہ اس ہنگامی مہم میں چار مزید اضلاع ، نوشہر، چارسدہ، مردان اورصوابی بھی شامل کیے جائیں۔