طالبان قیادت اور کمیٹی کی نامعلوم مقام پر ملاقات

،تصویر کا ذریعہAFP
طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین شمالی وزیرستان سے جنوبی وزیرستان کی جانب سفر کر رہے ہیں جہاں وہ نامعلوم مقام پر پہنچ کر طالبان سے بات چیت کا آغاز کریں گے۔
طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے ذاتی معاون احمد شاہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تین اراکین پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کل طالبان کا پیغام لے کر واپس لوٹیں گے۔انھوں نے بتایا کہ یہ اراکین اس وقت جنوبی وزیرستان میں نامعلوم مقام پر سفر کر رہے ہیں اور مطلوبہ مقام جس کا خود انھیں بھی علم نھیں ہے، تک پہنچ کر طالبان قیادت سے ملاقات کریں گے۔
یاد رہے کہ پروفیسر ابراہیم خان، مولانا یوسف شاہ اور مولانا عبدالحئی پر مشتمل طالبان کمیٹی کے اراکین جمعرات کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ پہنچے تھے۔
طالبان کمیٹی اور طالبان رہنماؤں اور حکومتی کمیٹی کے درمیان براہ راست مذاکرات کے لیے جگہ اور وقت کے تعین کے بارے میں بات چیت کرے گی۔
طالبان کمیٹی کے اراکین پروفیسر ابراہیم خان اور مولانا یوسف شاہ اس سے پہلے بھی فروری کے اوائل میں کالعدم تحریکِ طالبان کے رہنماؤں سے بات چیت کے لیے وزیرستان گئے تھے اور واپسی پر حکومتِ پاکستان کو کالعدم تحریکِ طالبان کا موقف پہنچایا تھا۔
پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان کےساتھ مذاکرات کےلیے نامزد حکومتی کمیٹی میں پورٹس اور شیپنگ کے وفاقی سیکریٹری حبیب اللہ خان خٹک، ایڈیشنل چیف سیکریٹری فاٹا ارباب محمد عارف، وزیرِاعظم سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل سیکریٹری فواد حسن فواد اور پی ٹی آئی کے رستم شاہ مہمند شامل ہیں۔ تاہم حکومت پاکستان نے اب تک باضابطہ طور پر نئی کمیٹی کے اراکین کے ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے اور نہ ہی پہلے سے موجود سرکاری کمیٹی کو غیر فعال کیا ہے۔
گزشتہ روز پاکستان کی وزارت داخلہ نےایک مختصر اعلامیے میں بتایا تھا کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کو بتایا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے نئی کمیٹی کا فیصلہ کیا ہے۔
یہاں یہ بھی اہم ہے کہ پاکستانی فوج ممکنہ طور پر نئی مذاکراتی کمیٹی میں شامل نہیں ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طالبان سے رابطے کرنے کے لیے بنائی گئی سرکاری کمیٹی کے رکن اور طالبان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ حکومت نے فوج کو مذاکراتی کمیٹی میں شامل کرنے کے لیے بڑی کوشش کی لیکن فوج نے کمیٹی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین میں ایک گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے رحیم اللہ یوسفرزئی نے کہا کہ حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ فوج ان کے ساتھ ہے اور فوج بھی یہی کہتی ہے کہ جو بھی حکومتی پالیسی ہوگی وہ اس پر کاربند رہیں گے۔
رحیم اللہ یوسفزئی نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں فوج اور حکومت کی سوچ میں اس اہم مسئلے پر فرق ہے۔ انھوں نے کہا کہ فوج کے لوگ سمجھتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات کا طریقہ کارگر ثابت نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی مذاکرات ہوئے ہیں اور فوج کی یہی سوچ ہے کہ اس مسئلے کا اس طریقے سے حل ممکن نہیں ہے۔
ادھرگزشتہ روز کالعدم تحریک طالبان نے ایک ناراضی بھرا تحریری بیان میڈیا کو ارسال کیا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
بیان میں تحریک طالبان نے پشاور، مہمند (غلنئی ) اور کراچی سینٹرل جیل میں قید اسیروں کو چکیوں میں بند کر کے اذیت دینے کا الزام بھی لگایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سینٹرل جیل سے بلاوجہ قیدیوں کو سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی دیگر جیلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان پوری سنجیدگی کے ساتھ جنگ بندی کے فیصلے پر عمل پیرا ہے اور احرار الہند اور جند اللہ جیسے گروپوں سے لاتعلقی کا اعلان بھی کر چکی ہے، تاہم حکومتی صفوں میں موجود بہت سے عناصر مذاکراتی ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں







