ڈرون حملے:’سنہ 2013 میں کوئی عام پاکستانی شہری ہلاک نہیں ہوا‘

بن ایمرسن نے پاکستان میں ڈرون حملے میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ افغانستان کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبن ایمرسن نے پاکستان میں ڈرون حملے میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ افغانستان کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی

اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب نے کہا ہے کہ سنہ 2013 میں امریکی ڈرون حملوں میں کسی عام پاکستانی شہری کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ نو سال میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے جب کسی ایک سال میں امریکی ڈرون حملوں کوئی عام پاکستانی شہری کے ہلاک ہونے کی خبر سامنے نہیں آئی۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ سال کے دوران پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں میں کمی آئی تاہم انھوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان میں اموات میں اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشتگردی کے خصوصی مندوب بین ایمرسن نے کہا کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے احتیاط کے نتیجے میں یہ کمی واقع ہوئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے فاٹا میں، جو کہ 2600 کلو میٹر پر محیط ہے، سنہ 2013 کے دوران کسی بھی عام شہری کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور 47 ممالک پر مبنی انسانی حقوق کی کونسل کے لیے کام کرنے والے خصوصی نمائندے نے جینیوا میں بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور سنہ 2010 میں سب سے زیادہ 128 ڈرون حملوں کے مقابلے گذشتہ سال صرف 27 حملے کیے گئے۔

گذشتہ سال افغانستان میں ڈرون حملوں میں 45 عام شہری مارے گئے
،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال افغانستان میں ڈرون حملوں میں 45 عام شہری مارے گئے

تاہم انھوں نے کہا کہ افغانستان میں صورت حال بگڑی ہے اور ڈرون حملوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق انھوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں گذشتہ سال ڈرون حملوں میں 45 عام شہری مارے گئے جبکہ 14 زخمی ہوئے اور یہ سنہ 2012 کے مقابلے تین گنا زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

ایمرسن نے کہا کہ یمن میں سنہ 2009 سے اب تک ڈرون حملوں میں تقریباً 500 عام شہری ہلاک ہو ئے۔انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک ایسی ٹیکنالوجی جس میں ہدف دن بھر 24 گھنٹے ملٹری کمانڈروں کی نظر میں رہتا ہے اور حقیقی وقت میں رہتا ہے وہاں اس طرح کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس کا انحصار مختلف قسم کی انٹیلی جنس اور ذمہ دار افسران کے فیصلوں پر ہے۔‘

انھوں نے اس سے قبل جینوا میں موجود اقوام متحدہ کی کونسل کو بتایا کہ زیادہ تر ڈرون حملے امریکی فورسز کرتی ہیں۔ انھوں نے ان معاملات میں مزید آزادانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔