’ڈرون حملوں میں ہلاکتیں ماورائے عدالت قتل ہیں‘

پاکستان کے علاوہ یمن میں بھی ڈرون حملوں میں شدت پسندوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے علاوہ یمن میں بھی ڈرون حملوں میں شدت پسندوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے

یورپی پارلیمان نے ایک قرارداد میں ڈرون حملوں میں ہونے والی انسانی اموات کو ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ ان ہلاکتوں کی مخالفت اور ان پر پابندی کا مطالبہ کریں۔

جمعرات کی شب یورپی پارلیمان میں مسلح ڈرون حملوں کے خلاف 49 کے مقابلے میں 534 ووٹ سے منظور کی جانے والی قرارداد میں بین الاقوامی قانونی ڈھانچے سے ماورا مسلح ڈرون طیاروں کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

<link type="page"><caption> </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/10/131022_drone_amnesty_pakistan_report_rh.shtml" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> ’ڈرون حملے غیر قانونی اور بعض جنگی جرائم کے زمرے میں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/10/131022_drone_amnesty_pakistan_report_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

قرارداد میں یورپی اتحاد پر زور دیا گیا کہ وہ یورپی اور عالمی سطح پر ایسا مناسب پالیسی جواب تیار کرے جس میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی توثیق کی گئی ہو۔

قرارداد میں ڈرون حملوں میں اموات کو ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ اور رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ان ہلاکتوں کی مخالفت کریں اور ان پر پابندی کا مطالبہ کریں۔

یورپی یونین کے رکن ممالک سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ڈرون طیاروں کے حملوں میں لوگوں کو مارنے میں شامل ہوں اور نہ ہی ایسا کرنے میں دوسرے ممالک کا ساتھ دیں۔

قرارداد کی ایک شق میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے علاقوں سے باہر ڈرون حملوں میں نامعلوم تعداد میں عام شہری ہلاک، زخمی یا شدید نفسیاتی صدمے سے دوچار ہوئے ہیں۔ اور یہ کہ ایسی شہری ہلاکتوں کے الزامات کے بعد یورپی ممالک کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ ان کی فوری اور غیرجانب دارانہ تحقیقات کروائیں، اور اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو ان کی ذمےداری کا تعین کر کے مرتکبین کو سزائیں دی جائیں، اور متاثرین کے خاندانوں کو معاوضہ ادا کیا جائے۔

پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف کئی بار احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف کئی بار احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں

قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ ڈرون طیاروں کو تخفیف اسلحہ کے یورپی اور بین الاقوامی معاہدوں میں شامل کیا جائے اور مکمل طور پر خودکار ہتھیاروں کی تیاری، پیداوار اور استعمال پر پابندی لگائی جائے جنھیں انسانی مدد کے بغیر ہی حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

قرارداد کی ایک شق کے مطابق اعلانیہ خطۂ جنگ سے باہر کسی دوسرے ملک کے اندر اس کی یا اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بغیر ڈرون حملے بین الاقوامی قانون اور اس ملک کی علاقائی سالمیت اور حاکمیت کی خلاف ورزی ہیں۔

اس قرارداد میں یورپی اتحاد کے ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مسلح ڈرون کے استعمال کے بارے میں مشترکہ موقف اختیار کریں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے ڈرون حملوں سے متعلق بیان، اقوام متحدہ کے ماورائے عدالت ہلاکتوں اور بے وجہ ہلاکتوں کے بارے کے بارے میں خصوصی نمائندہ کے بیان سمیت مختلف حوالہ جات بھی قرارداد میں دیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ گذشتہ کئی سالوں سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کر رہا ہے اور ان حملوں کے خلاف پاکستان متعدد بار احتجاج کر چکا ہے اور ان کو ملکی خودمختاری اور سالمیت کی خلاف ورزی قرار دتیا ہے جبکہ امریکہ کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ڈرون ایک موثر ہتھیار ہے۔

پاکستان کے علاوہ یمن میں بھی ڈرون حملوں میں شدت پسندوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

گذشتہ سال انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اسے ملنے والے نئے ثبوت سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ امریکہ نے ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان میں غیر قانونی طور پر شہریوں کو ہلاک کیا جس میں سے بعض جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آتے ہیں۔