طالبان سے مذاکرات: امریکی ڈرون حملے محدود

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی حکام کے مطابق اوباما انتظامیہ نے پاکستان کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران ڈرون حملے روکنے کی درخواست کے بعد پاکستان کی سرزمین پر ڈرون حملوں کو بہت حد تک محدود کر دیا ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے پاکستان کی درخواست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک امریکی اہل کار کے حوالے سے بتایا کہ ’انھوں نے یہی مانگا اور اس کا ہم نے نفی میں جواب نہیں دیا۔‘
تاہم امریکی انتظامیہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ سامنے آنے والے القاعدہ کے سینیئر رہنماووں کے خلاف کارروائی کرے گی ا ور امریکہ کو لاحق کسی بھی براہ راست خطرے کو ٹالنے کے لیے اقدام اٹھائے گی۔
<link type="page"><caption> ’ایک بڑی وضاحت ہو گئی، مذاکرات کے لیے تیار ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/02/140204_taleban_govt_talks_douts.shtml" platform="highweb"/></link>
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکہ کی طرف سے گذشتہ سال دسمبر سے ڈرون حملوں میں وقفے کی وجہ پاکستان کی سیاسی خدشات ہیں۔ سنہ 2011 میں پاکستان کے سلالہ چیک پوسٹ پر فضائی حملے کے بعد ڈرون حملوں میں چھ ہفتوں تک جاری رہنے والے وقفے کے بعد ڈرون حملوں میں یہ سب سے لمبا وقفہ ہے۔
ڈرون حملوں میں موجودہ کمی نومبر میں ڈرون حملے میں تحریکِ طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد کی گئی جب پاکستانی حکومت اور طالبان کے درمیان کے مذاکرات کی کوششیں ابتدائی مرحلے میں تھیں۔اس حملے کے بعد طالبان نے مذاکرات سے انکار کر دیا تھا ا ور پاکستان کی حکومت نے امریکہ پر ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
ایک سینیئر امریکی اہل کار نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ امریکی ڈرون حملوں کو محدود کرنے کے سلسلے میں پاکستان کے ساتھ کوئی غیر رسمی معاہدہ نہیں کیا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’طالبان کے ساتھ مذاکرات کا معاملہ مکمل طور پر پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔‘
سینئیر امریکی اہل کار نے موضوع کی نزاکت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’امریکی انتظامیہ افغانستان کے میدانِ جنگ اور اس سے باہر کے اطراف میں متحرک دشمن کی طرف سے خطرات کی انسدادِ دہشت گردی کے مقاصد اور قانون اور پالیسی کے معیار کے مطابق نشاندہی کر کے اسے ختم کرنے کے عمل کو جاری رکھے گی۔۔۔اور یہ اطلاعات غلط ہیں کہ ہم پاکستان میں امن مذاکرات کی حمایت میں اپنی پالیسی بدلنے پر متفق ہو گئے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان نے اس خبر پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈروان حملوں کی جزوی نہیں بلکہ مکمل بندش چاہتا ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا’میں اس طرح کی خبروں پر تبصرہ نہیں کروں گی کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان بڑے عرصے سے مطالبہ کر رہا ہے کہ امریکہ ڈروان حملے بند کریں کیونکہ اس میں نہ صرف معصوم لوگ مارے جاتے ہیں بلکہ یہ ہماری خودمحتاری کے بھی خلاف ہے۔‘
خیال رہے کہ حکومتِ پاکستان اور کالعدم تحریکِ طالبان کے درمیان مذاکرات کا عمل ایک بار پھر شروع کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی اور طالبان کی کمیٹی کے درمیان منگل کو ملاقات ہونا تھی لیکن حکومت کی کمیٹی نے منگل کے اجلاس کو یہ کہہ کر ملتوی کر دیا کہ اسے طالبان سے کچھ وضاحتیں درکار ہیں جن کے بعد ہی مذاکرات فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔
اس کے بعد طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے سرکردہ رکن سمیع الحق نے اسلام میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے طے شدہ ملاقات ملتوی ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور کچھ وضاحتیں بھی دیں جس کے بعد حکومت کی کمیٹی نے کہا کہ وہ طالبان کی تین رکنی مذاکراتی کمیٹی سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔
آئندہ چند دنوں میں ان دونوں کمیٹیوں کے درمیان ملاقات متوقع ہے۔
اگر ایک طرف پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں میں عارضی طور پر کمی آئی ہے تو دوسری طرف امریکہ نے یمن میں حملے جاری رکھے ہیں اور ڈرون کے ایک حالیہ حملے میں سویلین افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔







